اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کردی ہے جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی اور خشک موسم برقرار رہے گا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے، تاہم راولپنڈی، گلیات، چکوال، جہلم اور ان کے گردونواح میں آندھی کے ساتھ چند مقامات پر ہلکی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ میدانی علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کےمطابق ادھر سندھ اور بلوچستان میں بھی گرمی کی شدت برقرار ہے،بلوچستان کے کئی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، سبی ملک کا گرم ترین مقام رہا، جہاں درجہ حرارت 48 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ تربت میں 45، نوکنڈی میں 43، چمن میں 37، جب کہ زیارت میں نسبتاً معتدل درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ژوب میں پارہ 39 ڈگری تک پہنچا۔
ساحلی علاقوں میں بھی گرمی کی شدت کم نہ ہو سکی۔ گوادر میں درجہ حرارت 37 اور جیوانی میں 36 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جس سے مقامی آبادی کو شدید حبس اور گھٹن کا سامنا ہے۔
خیبرپختونخوا کے میدانی اضلاع میں بھی موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے جب کہ بعض بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ چترال، دیر، سوات، مالاکنڈ، مانسہرہ، شانگلہ، کوہستان، ایبٹ آباد، پشاور، کرم، کوہاٹ، وزیرستان اور اطراف کے علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی چند مقامات پر تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کی توقع ہے، جس سے جزوی طور پر موسم خوشگوار ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں خصوصاً بلوچستان اور سندھ کے میدانی علاقوں میں رہنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شدید گرمی کے دوران بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گرج چمک کے ساتھ بارش بارش کی پیشگوئی محکمہ موسمیات علاقوں میں اسلام آباد امکان ہے میں بھی
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔