13 سے 18 جون تک موسمی صورتحال، الرٹ جاری کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
13 سے 18 جون تک ممکنہ موسمی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا گیا، جس میں کہیں بارش تو کہیں گرمی کی شدت میں اضافے کا بتایا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق این ڈی ایم اے نے 13 سے 18 جون تک ممکنہ موسمی صورتحال کیلئے ایڈوائزری جاری کردی۔
جس میں 13 سے 16جون تک پنجاب کے زیادہ تر علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ظاہر کیا گیا ہے.
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ بالائی علاقوں بشمول پوٹھوہارریجن،راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش کا امکان ہے.
ایڈوائزری میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں موسم گرم رہنےاورگرمی کی شدت میں اضافے جبکہ خیبر پختونخوا کے چند اضلاع چترال، دیر، ہری پور، کرک، کوہاٹ اور کوہستان میں بارش کا امکان ہے۔
خیبر، کرم، مانسہرہ، مہمند، نوشہرہ، مالاکنڈ، چارشدہ ، ایبٹ آباد سمیت بنوں، ہزارہ، پشاور، صوابی، سوات اور وزیرستان میں آ ندھی طوفان کیساتھ بارش کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ سندھ اور بلوچستان میں 13سے18 جون تک موسم شدیدگرم رہے گا جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں بھی گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔
استور، اسکردو، ہنزہ، شگر، باغ اور نیلم ویلی میں بارش بھی متوقع ہے، جس کے پیش نظر کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کا امکان ہے کی شدت میں جون تک
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔