Jasarat News:
2026-07-24@05:02:30 GMT

غزہ :اسرائیلی حملوں میں مزید 60 فلسطینی شہید

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قاہرہ / غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں امدادی مراکز بھی نشانہ بننے لگے، اسرائیلی حملوں میں مزید 60 فلسطینی شہید کردیا گیا، نیٹزاریم کے قریب 25 جبکہ رفح میںامدادکے منتظر 14افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔اقوام متحدہ کی شدیدمذمت ۔فرانسیسی طبی امدادی تنظیم کے دفتر پر اسرائیلی ڈرون حملہ،8افراد شہید ہوگئے ،غزہ سے مزید 2 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں برآمدہوئی ہیں اور ایک ہفتے میں یرغمالیوں کی برآمد ہونے والی لاشوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے،دوسری جانبمصری حکام نے غزہ کی طرف عالمی مارچ سے قبل 200 سے زاید فلسطین حامی کارکنوں کو گرفتار کرلیا،اسرائیلی ناکا بندی ختم کرانے کے لیے عالمی غزہ مارچ کاآغاز آج ہوگا۔فلسطین میں امداد پہنچانے کے لیے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن گریٹا تھنبرگ اسرائیل سے ملک بدری کے بعد سویڈن واپس پہنچ گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی توجہ فلسطینیوں کی حالت زار پر مرکوز رہنی چاہیے، تھنبرگ، 12 کارکنوں اور صحافیوں کے اْس گروپ میں شامل تھیں جنہوں نے غزہ جانے والی ایک انسانی ہمدردی کی امدادی کشتی پر سفر شروع کیا تھا۔ادھر اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام ’ہماری زندگی میں ممکن نہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 60 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں اکثریت ان افراد کی تھی جو امدادی مرکز کے قریب خوراک لینے پہنچے تھے۔ فلسطینی وزارتِ صحت اور شفا و القدس اسپتال کے حکام کے مطابق 25 افراد اس وقت شہید ہوئے جب وہ نیٹزاریم کے قریب امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ تنظیم غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے امدادی مرکز کے قریب جمع تھے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مشتبہ افراد کو ’’وارننگ فائر‘‘کیا گیا کیونکہ وہ فوج کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ناصر اسپتال نے مزید بتایا کہ رفح میں دوسرے جی ایچ ایف مرکز کے قریب بھی اسرائیلی گولیوں سے 14 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جی ایچ ایف مراکز سے امداد حاصل کرنے کی کوشش میں اب تک 163 فلسطینی شہید اور 1,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے اور جی ایچ ایف کے ذریعے امداد پہنچانے سے انکار کر دیا ہے، جسے وہ انسانی امداد کے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ فرانس کی طبی امدادی تنظیم Medecins du Monde نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل نے ان کے دفتر پر ڈرون حملہ کر کے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ حملے میں 8 افراد شہید ہوئے، جن میں کوئی عملہ شامل نہیں تھا۔ تنظیم کے مطابق انہوں نے اسرائیلی فوج کو دفتر کی اطلاع دے رکھی تھی اور وہ محفوظ اور حملے سے مستثنیٰعلاقے میں تھا۔علاوہ ازیں مصری حکام نے غزہ کی جانب عالمی مارچ سے قبل 200 سے زائد فلسطین حامی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مصری حکام نے قاہرہ ائیرپورٹ پر 200 سے زاید کارکنوں کو حراست میں لیا یا ان سے تفتیش کی۔ منتظمین کا بتانا ہے کہ زیر حراست افراد میں امریکا، آسٹریلیا، نیدرلینڈز، فرانس، اسپین، مراکش اور الجزائر کے شہری شامل ہیں۔ مارچ کے منتظمین نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے قاہرہ کے مختلف ہوٹلوں پر چھاپے مارے اور مارچ کے لیے آنے والے افراد سے تفتیش کی، ان کے موبائل فونز ضبط کرلیے اور ان کے سامان کی تلاشی لی۔ پولیس اہلکاروں نے تفتیش کے بعد کچھ افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ دیگر کو چھوڑ دیا گیا۔ قاہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منتظمین نے کہاکہ 40 ممالک سے تعلق رکھنے والے 4 ہزار سے زاید کارکنوں کا مصر آنے کا ارادہ ہے جن میں سے اکثر مصر پہنچ چکے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی ختم کرنے اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے ہونے والے اس مارچ کا آغازآج ( جمعہ) ہوگا، شرکا بسوں کے ذریعے مصر کے سخت سیکورٹی والے علاقے العریش جائیں گے جہاں سے وہ پیدل 50 کلومیٹر کا سفر کرکے غزہ کی سرحد پر رفح کراسنگ پہنچیں گے جہاں شرکا کیمپ لگائیں گے۔ ادھر اسرائیل نے مصر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’جہادی مظاہرین‘ کو سرحد پر پہنچنے سے روکے، اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات ’اسرائیلی فوجیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں گے اور انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔ مصر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مصر اسرائیل پر غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم کسی بھی غیر ملکی وفد کو سرحدی علاقے میں جانے کے لیے سرکاری منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔

غزہ:فلسطینی بچے امدادی کیمپ کے قریب برتن اٹھائے خوراک کیلیے انتظار کررہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی شہید کے مطابق کے قریب کے لیے

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم