سکھر ، جے یو آئی کا بے امنی کیخلاف مرحلہ وار احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت)جمعیت علما اسلام نے سندھ میں بے امنی اور ڈاکو راج کے خلاف مرحلہ وار عوامی مزاحمت کا آغازکرتے ہوئے احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا ،جمعرات کے روز جے یو آئی صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حضرت مولانا محمد صالح انڈھڑ نے مدرسہ منزل گاہ سکھر میں جمعیت علما اسلام پاکستان کے ناظم حضرت مفتی سعود افضل ہالیجوی ، ضلع سکھر کے سیکرٹری جنرل حافظ عبدالحمید مہر ، ضلعی پریس ترجمان مولانا امان اللہ سکھروی ، سیکرٹری جنرل سٹی سکھر قاری لیاقت علی مغل ، سوشل میڈیا قاری نصر اللہ سکھروی ، مولانا رفیق احمد بندھانی ، مفتی محمد اعظم مہر و دیگر علماکرام کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں احتجاجی تحریک شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 30 جون کو سکھر میں قبائلی سرداران کا امن جرگہ بلایا جائے گاجبکہ 17 جولائی کو وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف سندھ امن مارچ ہوگااور یہ امن مارچ جب تک جاری رہے گا جب تک امن و امان کے قیام عمل میں نہیں لایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں اس ہفتے پریس کانفرنسز ہوں گی،اضلاع کی سطح پر آل پارٹیز کانفرنسز بھی منعقد ہوں گی، جبکہ 15 جون کو حیدرآباد میں اسرائیل مردہ باد و دفاع وطن سندھ ملین مارچ ہوگا، مولانا فضل الرحمن 15 جون کے سندھ ملین مارچ سے خصوصی خطاب کریں گے، لاڑکانہ کی ہر تحصیل میں امن کانفرنسز کا انعقاد ہوگا، ، جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل حضرت مولانا محمد صالح انڈھڑ، یو آئی پاکستان کے ناظم حضرت مفتی سعود افضل ہالیجوی کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں امن قائم کی صورتحال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سندھ کے لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں،ہم نے امن امان کو برقرار رکھنے کے لیے احتجاج کیے مارچ کیے، سندھ میں ڈاکو راج قائم ہو چکا ہے ، لوگوں کو اغوا کر کے ان پر تشدد کیا جاتا ہے،پولیس کے لیے امن امان کے حوالے سے بجٹ دیا جاتا ہے وہ بجٹ کہاں جاتا ہے اس کا آج تک معلوم نہیں ہو سکا ہے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی جھگڑوں میں سیکڑوں لوگ قتل کیے جاتے ہیں،اگر پولیس کے پر کاٹ کر میدان میں اتارا جائے گا تو سیاست دانوں کی سیاست ہی چمکے گی انہوں نے بتایا کہ آج جے یو آئی کی جانب سے سندھ کے مختلف شہروں میں امن امان پر پریس کانفرنس کی جا رہی ہے ان شاء اللہ 15 جون کو حیدرآباد میں دفاع وطن اسرائیل مردہ باد مردہ اور سندھ امن مارچ نکالا جائیگا جس میں سندھ کی عوام بھرپور شرکت کریگی ، انہوں نے کہا کہ سکھر کے شہری محفوظ نہیں ہے آئے روز شہریوں کو دن دھاڑے لوٹا جا رہا ہے ان حالات کو من نظر رکھتے ہوئے جے یو آئی میدان جنگ میں نکلی ہے، پریس کانفرنس کے دوران مذکورہ رہنما?ں و علماء کرام کا کہنا تھا کہ جب وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ آئی بی اے یونیورسٹی سکھر آئے تھے تو راشد محمود سومرو نے کچے کے علاقے میں جوائنٹ آپریشن کرانے کو کہاتھا لیکن ابتک جوائنٹ آپریشن کا نام و نشان تک نظر نہیں آرہا ہے ، سندھ کے حکمرانوں نے کہا کچے میں امن امان ہے لیکن امن امان خراب ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کو بااختیار بنایا جائے تو امن امان کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے انہوں نے سندھ کی باشعور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعیت علما اسلام کی اس عوامی حقوق کی تحریک کو مضبوط کرنے کیلئے جے یو آئی کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ سندھ کی عوام کے حقوق حاصل کئے جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جے یو ا ئی سندھ کے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔