ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے بیان پر بھارتی سیخ پا‘ امریکی پرچم نذر آتش
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (آن لائن)انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں امریکی پرچم کی بے حرمتی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کرانے کا دعوی بھارتیوں کو ہضم نہیں ہو رہا،اب صدر ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کی کوششوں پر بھی بھارتی شہری سیخ پا ہو گئے،انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے امریکا کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا،انتہا پسند ہندوئوں نے ذہنی پستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے ممالک کے پرچم کی بے حرمتی جاری رکھی،احتجاج کے دوران انتہا پسند ہندوئوں نے امریکی پرچم کو پیروں میں روند ڈالا،امریکی پرچم کو پیروں میں روندتے ہوئے انتہا پسند ہندوئوں نے انتہائی غلیظ الفاظ اداکیے،بھارتی شہری نے امریکی پرچم پر تھوکا اور امریکا کو دہشت گرد ملک قرار دیا۔ انتہا پسندہندوکا کہنا تھا کہ ہندوئوں کو مضبوط کرو گے ہم آپ کو مضبوط کریں گے،امریکا گندی سیاست کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی پرچم انتہا پسند
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔