سولر پینلز پر ٹیکس کا فیصلہ رجعت پسند اقدام ہے، ندیم افضل چن
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن) پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ سولر پینلز پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کا حالیہ فیصلہ ایک رجعت پسند اقدام ہے، سولر پینلز پر اضافی ٹیکس پاکستان کی توانائی کی ترقی میں رکاوٹ بنے گا۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس عائد کرنے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کا حالیہ فیصلہ ایک رجعت پسند اقدام ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں تنخواہوں میں 150 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، سولر پینلز پر اضافی ٹیکس پاکستان کی توانائی کی ترقی میں رکاوٹ بنے گا، اس اقدام سے گھروں اور کاروباروں کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ سولر پینلز پر زیادہ ٹیکس لگانے سے نہ صرف صارفین متاثر ہوں گے بلکہ مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو بھی نقصان پہنچے گا، سولر پینلز پر ٹیکس لگانے کے بجائے حکومت کو ان کو اپنانے کی ترغیب دینی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ندیم افضل چن
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔