اسرائیل کے ایران پر حملے؛ سربراہ پاسداران، آرمی چیف،جوہری سائنسدانوں کی شہادت کادعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایران پر حملے کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے، آپریشن رائزنگ لائن مزید دو ہفتے جاری رہے گا، اسرائیلی فوجی حکام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ایران کے درجنوں جوہری پروگرام اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ایرانی جوہری سائنسدان اسرائیلی حملے میں شہید، برطانوی میڈیا
برطانوی میڈیا نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں دو سینئر جوہری سائنسدان شہید ہو گئے ہیں، جن کی شناخت کر لی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والوں میں سے ایک ڈاکٹر فریدون عباسی ہیں، جو ایرانی ایٹمی توانائی ادارے (AEOI) کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ یہ ادارہ ایران کی جوہری تنصیبات کا ذمہ دار ہے۔
یاد رہے کہ فریدون عباسی پر 2010 میں تہران کی ایک سڑک پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا، جس میں وہ بچ گئے تھے۔
دوسرے ہلاک ہونے والے سائنسدان محمد مہدی طہرانچی ہیں، جو تہران میں اسلامی آزاد یونیورسٹی کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
امریکا کا جنگ سے لاتعلقی کا اعلان
ایران پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ان حملوں میں شامل نہیں ہے اور اس کی اولین ترجیح خطے میں موجود امریکی افواج کا تحفظ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج رات اسرائیل نے ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی، امریکا ان حملوں میں شامل نہیں ہے۔
ہماری اولین ترجیح مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کا تحفظ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی حکام کے رہائشی علاقے پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی توقع ہے، اس لیے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
یروشلم میں شہریوں کو سائرن کی آواز سے بیدار کیا گیا، جس کے فوراً بعد موبائل فونز پر خطرے سے آگاہی کے پیغامات بھی موصول ہوئے۔
امریکی ٹی وی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے صورتحال کے باعث کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ایران کے آرمی چیف میجر جنرل محمد باقری شہید، مغربی میڈیا
غیر ملکی میڈیا نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں تہران میں واقع اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کا ہیڈکوارٹر نشانہ بنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری شہید ہو گئے ہیں، کمانڈر حسین سلامی کو بھی شہید کر دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں متعدد سینئر جوہری سائنسدان بھی مارے گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ حسین سلامی کی بھی شہادت کی اطلاعات
غیر ملکی میڈیا کی خبروں کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی شہید ہو گئے ہیں۔
اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو سلامی ایران کے سب سے سینئر فوجی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو حالیہ حملوں میں مارے گئے۔
میجر جنرل حسین سلامی نے 1980 میں ایران-عراق جنگ کے آغاز پر پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی۔ وقت کے ساتھ وہ فوجی رینکس میں ترقی کرتے گئے۔ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سخت بیانات دینے کے حوالے سے مشہور ہوئے۔
اسرائیلی حملوں پر عالمی ردعمل آنا شروع
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ہمیں شدید تشویش ہے۔ یہ ایک ایسے خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔
ایران کے رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا ردعمل
ایران کے رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے صیہونی فضائیہ کے حملوں پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے اپنے تلخ اور دردناک تقدیر کی بنیاد رکھ دی ہے۔
اسلامی انقلاب کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے آج صبح قوم سے خطاب میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں تہران سمیت ایران کے دیگر شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی سیکورٹی حکام نے مزید حملوں کا عندیہ دے دیا
ایران پر ہونے والے حملے کو اسرائیل نے ’ آپریشن رائزنگ لائن ‘ کا نام دیا ہے، صیہونی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے، اور مزید حملے اس سے زیادہ طاقتور اور خطرناک ہوں گے، فوجی حکام کا مزید کہنا تھا کہ یہ حملے مزید دو ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کا بیان
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے’آپریشن رائزنگ لائنٗ (Operation Rising Lion) کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ایران سے درپیش خطرے کا خاتمہ ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ چند لمحے قبل اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کا آغاز کیا، جو ایک مخصوص فوجی کارروائی ہے۔
اس کا مقصد ایران کے اس خطرے کو پیچھے دھکیلنا ہے جو اسرائیل کے وجود کے لیے بن چکا ہے۔ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ پھیلاؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار تو نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں کیے تھے، اگر اسے نہ روکا گیا تو ایران چند ماہ یا ایک سال سے بھی کم عرصے میں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو سکتا ہے۔
وزیرِاعظم نیتن یاہو نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے اور عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی حملے ایران کے جوہری پروگرام اور عسکری تنصیبات پر مرکوز ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ان حملوں کا ہدف ایران کا جوہری پروگرام، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور دیگر اہم عسکری تنصیبات تھیں۔
اسرائیلی فضائیہ نے ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل نے ملک بھر میں خصوصی ہنگامی حالت نافذ کر دی
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج صبح 3 بجے (مقامی وقت کے مطابق) سے شہریوں کے لیے ’ ہوم فرنٹ کمانڈ گائیڈ لائنز ‘ میں تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں سرگرمیوں کا دائرہ محدود کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ملک میں تمام تعلیمی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے، عوامی اجتماعات اور غیر ضروری دفاتر کو بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، صرف بنیادی اور ضروری شعبے سرگرم رہیں گے۔
یروشلم میں رات تین بجے کے قریب سائرن کی آوازوں اور موبائل فون الرٹس کے ذریعے شہریوں کو خطرے سے آگاہ کیا گیا جس کے بعد خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جوہری سائنسدان اسرائیلی فضائی اسرائیلی وزیر ہے کہ اسرائیل کرتے ہوئے کہا فضائی حملوں رائزنگ لائن نے ایران کے حسین سلامی ایران کے ا دیا گیا ہے میں ایران فوجی حکام نیتن یاہو حملوں میں ایران پر کے خلاف حکام کا شہید ہو گئے ہیں ہے کہ ا کہا کہ نے ملک کر دیا
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭