اسرائیلی حملے میں جاں بحق ایرانی سائنسدانوں میں کون کون شامل ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
تہران پر اسرائیلی حملے میں ایران کے چھ اہم سائنسدان مارے گئے، جن کا تعلق جوہری اور دفاعی پروگرامز سے تھا۔ ان کی موت کو ایران کے سائنسی اور عسکری ڈھانچے پر بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر فریدون عباسی دوانیشہید سائنسدانوں میں سب سے نمایاں نام ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی کا ہے، جو ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سابق سربراہ رہ چکے تھے۔ وہ نیوکلیئر فزکس کے ماہر تھے اور یورینیم افزودگی جیسے حساس شعبے میں کام کرتے تھے۔ اُن پر پہلے بھی قاتلانہ حملہ ہو چکا تھا، مگر وہ بچ گئے تھے۔
ڈاکٹر محمد مہدی تہرانچیدوسرے سائنسدان ڈاکٹر محمد مہدی تہرانچی تھے، جو تہران کی مشہور اسلامی آزاد یونیورسٹی کے سربراہ اور لیزر فزکس کے ماہر تھے۔ ان کا شمار ایران کے جوہری سائنسدانوں میں ہوتا تھا، اور انہوں نے مختلف ریسرچ پروجیکٹس کی قیادت کی تھی۔
ڈاکٹر مجید کاویانیڈاکٹر مجید کاویانی کا تعلق خلائی ٹیکنالوجی سے تھا۔ وہ ایران کے عسکری سیٹلائٹ پروگرامز میں سرگرم رہے اور ملکی دفاعی سیٹلائٹ سسٹم کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر سجاد قریشیڈاکٹر سجاد قریشی دفاعی ٹیکنالوجی کے ماہر تھے۔ وہ راڈار اور میزائل ٹیکنالوجی میں کام کر رہے تھے اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرامز سے منسلک تھے۔
ڈاکٹر علی خرم دہقانڈاکٹر علی خرم دہقان نطنز اور فردو کے ایٹمی پلانٹس میں بطور مشیر خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ وہ نیوکلیئر مواد کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے پر تحقیق کر رہے تھے۔
ڈاکٹر رضا موسوی نژادڈاکٹر رضا موسوی نژاد کا تعلق کیمیکل انجینئرنگ سے تھا۔ وہ دفاعی اداروں میں کام کرتے تھے اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے منصوبوں میں شامل تھے۔
ان سائنسدانوں کی شہادت سے نہ صرف ایران کی دفاعی تحقیق کو نقصان پہنچا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان کی قربانی کو “ناقابلِ فراموش قومی سرمایہ” قرار دیا ہے اور اسرائیل کو سنگین نتائج کی وارننگ دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی حملہ ایران ایرانی سائنسدان ڈاکٹر رضا موسوی نژاد ڈاکٹر سجاد قریشی ڈاکٹر علی خرم دہقان ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی ڈاکٹر مجید کاویانی ڈاکٹر محمد مہدی تہرانچی سائنسدان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملہ ایران ایرانی سائنسدان ڈاکٹر سجاد قریشی ڈاکٹر علی خرم دہقان ڈاکٹر فریدون عباسی دوانی ایران کے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔