ڈاکٹر میاں بیوی اور 3 بچوں کی آخری سیلفی؛ برطانیہ بسنے جا رہے تھے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بھارتی شہر حیدرآباد میں تباہ ہونے والے مسافر بردار طیارے میں ایک ایسا بدنصیب خاندان بھی شامل ہے جو برطانیہ میں والد کے ساتھ جا بسنے والے تھے۔
بھارتی طیارہ حادثے میں پہلے 241 مسافروں اور 50 سے زائد ہاسٹل کے طلبا کی ہلاکتوں کی اطلاعات دی گئی تھیں تاہم بعد میں تعداد 241 بتائی گئی۔
اس افسوسناک واقعے میں المناک داستانوں نے جنم لیا ہے جس میں ایک ایسا خاندان بھی ہے جو برطانیہ جا بسنے والے تھے۔
ڈاکٹر پرتیک جوشی بھارت سے برطانیہ گئے تھے اور وہاں پریکٹس کر رہے تھے لیکن اس بار وہ اپنے پورے خاندان کو لے جانے کے لیے آئے تھے۔
شوہر کے کہنے پر ڈاکٹر پرتیک جوشی کی اہلیہ ڈاکٹر کومی ویاس نے بھارت کے اسپتال کی ملازمت چھوڑ کر خاندان کے ہمراہ برطانیہ جا بسنے کا فیصلہ کیا۔
یوں ڈاکٹر پرتیک جوشی، اہلیہ ڈاکٹر کومی ویاس اور ان کے تین بچے ایئر انڈیا کے اس بدقسمت طیارے میں انجام سے بے خبر سوار ہوئے۔
ان پانچوں نے طیارے میں ایک سیلفی کھینچی اور اسے بھارت میں موجود اپنے اہل خانہ کو بھیجا۔ یہ ہنستے مسکراتے چہرے ہمیشہ کے لیے مرجھانے والے تھے۔
ڈاکٹر جوڑے کی بڑی بیٹی آٹھ سال کی تھی جس کے بعد دو جڑواں بچے تھے۔ اس خاندان کی یہ آخری سیلفی ثابت ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔