سندھ کا34 کھرب51 ارب87 کروڑ کا بجٹ پیش
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
سندھ کا اگلے مالی سال کیلئے چونتیس کھرب اکاون ارب ستاسی کروڑ روپے کا بجٹ آج سندھ اسمبلی کراچی میں پیش کیاگیا ۔سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے جن کے پاس وزیرخزانہ کا قلمدان بھی ہے ، بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے گریڈ ایک سے سولہ تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بارہ فیصد اضافے اور گریڈ سترہ سے بائیس تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا ۔
وزیراعلی نے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں آٹھ فیصد اضافے کا اعلان کیا ۔انہوں نے خصوصی ملازمین کے کنوینس الائونس میں اضافے کا بھی اعلان کیا ۔بجٹ میں جاری اخراجات کیلئے دوہزار ایک سو انچاس اعشاریہ چار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔تعلیم کے شعبے کیلئے پانچ سوتئیس اعشاریہ تین ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں بارہ اعشاریہ چار فیصد زیادہ ہے ۔
صحت کے شعبے کیلئے تین سو چھبیس اعشاریہ پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے پانچ سو بیس ارب روپے ، ضلعی ترقیاتی پروگرام کیلئے پچپن ارب روپے اور غیرملکی امداد والے منصوبوں کیلئے تین سوچھیاسٹھ اعشاریہ سات دو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیاکہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنایا جائے گا اور لوگوں کی سہولت کیلئے شہر میں پچاس برقی بسیں چلائی جائیں گی۔وزیراعلی نے کہاکہ زرعی اصلاحات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔انہوں ںے کہا کہ دو لاکھ سے زیادہ کاشتکاروں کو بے نظیر کارڈ جاری کیے جائیںگے تاکہ انھیں سبسڈی اورجدید زرعی مشینری فراہم کی جاسکے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔