ڈائریکٹوریٹ آف اسپیشل ایجوکیشن میں لاکھوں روپے کے سولر پینل ناکارہ ہونے لگے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
جنید ریاض : ڈائریکٹوریٹ آف اسپیشل ایجوکیشن میں لگائے گئے لاکھوں روپے مالیت کے سولر پینل محض چھ ماہ میں ناکارہ ہونے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک ان پینلز سے ایک بھی یونٹ بجلی حاصل نہیں کیا جا سکا۔
ذرائع کے مطابق سولر پینلز کے ساتھ بیٹریاں اور گرین میٹرز تاحال نہیں لگائے جا سکے۔ادارے کی عدم دلچسپی کے باعث پینلز خراب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کے دوران جنریٹرز نے بھی کام کرنا بند کر دیا ہے۔جنریٹرز کے استعمال سے ماہانہ لاکھوں روپے کا پٹرول ضائع ہو رہا ہے۔
محکمہ خصوصی تعلیم کا مؤقف ہے کہ سولر پینلز انرجی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لگائے گئے ہیں، اور بیٹریاں و گرین میٹرز بھی انہیں ہی فراہم کرنے ہیں۔
فنڈز کی کمی: نگران دورِ حکومت میں تعمیر کیے گئے تھانے فعال نہ ہو سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔