ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد جوابی کارروائی کی وجہ سے 6 ممالک کی فضائی حدود مسلسل بند ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا فلائٹ آپریشن زیادہ متاثر نہیں ہوا تاہم بھارت کی ہوا بازی کی صنعت کو شدید نقصانات کا سامنا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق حملے کے دوران بھارت کی 30 پروازوں کے رخ موڑنا پڑیں اور درجنوں پروازیں منسوخ کردی گئیں۔

گزشتہ رات اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی فضائی حدود ہر نوعیت کی پروازوں کیلئے بند کی گئی جب کہ عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی تھی۔

جمعہ کی صبح اردن کی جانب سے بھی فضائی حدود بند کرنے کا نوٹم جاری کیا گیا، شام اور لبنان کے بعد اسرائیل نے بھی جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر اپنی فضائی حدود مکمل بند کر رکھی ہے۔

ایران پر حملے کے وقت بھارت کی دہلی کی 2 پروازیں ایران میں پھنس گئی تھیں تاہم مختصر دورانیے کے دوران انہیں ایران کی فضائی حدود سے واپس دھکیل دیا گیا۔

واشنگٹن دہلی، نیویارک ممبئی، نیویارک دہلی، لندن دہلی کو ویانا اتارا گیا، ٹورنٹو دہلی نیویارک دہلی کو فرینکفرٹ اتارا گیا، وین کور دہلی، شکاگو دہلی کو جدہ لینڈ کرایا گیا، لندن بنگلور کو شارجہ جب کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ کے مختلف ممالک کی درجنوں پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا۔

اب امریکا سے بھارت کی پروازیں کینیڈا سے ہوکر روس، منگولیا، چین، میانمار سے ہوکر بنگلا دیش کے روٹ سے منزلوں تک پہنچ رہی ہیں، جدہ سے 15 گھنٹے کی پرواز کو 3 گھنٹے سے زائد اضافی لگ رہے ہیں۔

پاکستان آنے اور جانیوالی پروازوں کو بھی تاخیر کا سامنا
دوسری جانب ایران اسرائیل کشیدگی کے پیش نظر نجف سےکراچی، باکو سے لاہور اورکراچی سےجدہ کیلئے 7 پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں، غیرملکی ائیرلائن کی کویت سے کراچی کی 2 پروازیں 6گھنٹے سے زائد تاخیرکاشکار ہیں۔

دبئی سے کراچی کی 2 پروازوں کی روانگی میں 2 گھنٹے، کراچی سے استنبول آنے اور جانے والی 4 پروازوں کی روانگی میں ایک گھنٹے سے زائد، قومی ائیرلائن کی کراچی سے مسقط کی پرواز کی روانگی میں 5 گھنٹے، شارجہ اوردبئی سے فیصل آباد آنے اورجانے والی 4 پروازیں 2 گھنٹے جب کہ شارجہ سے سیالکوٹ اوردبئی سے ملتان کی 4 پروازیں ایک گھنٹے سے زائدتاخیرکاشکار ہیں۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی فضائی حدود بھارت کی گھنٹے سے

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا