چین کی ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ :اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے اور اسرائیل پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام فوجی جارحانہ کارروائیوں کو بند کرے۔فو چھونگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ایران کے متعدد اہداف پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا اور جانی نقصان ہوا۔ چین اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے، کشیدگی بڑھانے اور تنازع کو پھیلانے کی مخالفت کرتا ہے، اور اسرائیلی اقدامات سے پیدا ہونے والے سنگین نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔فو چھونگ نے مزید کہا کہ چین کو ایرانی جوہری مسئلے پر سفارتی مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر شدید تشویش ہے۔ چین ہمیشہ ایرانی جوہری مسئلے کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے پرعزم رہا ہے، طاقت کے استعمال اور غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے اور پرامن جوہری تنصیبات پر مسلح حملوں کی مخالفت کرتا ہے۔” جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے ” کے ایک فریق کے طور پر جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے ایران کے حق کا مکمل احترام کیا جائے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرتا ہے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔