امریکا کے رویے سے جوہری پروگرام پر مذاکرات ’بے معنی‘ ہوگئے، ایرانی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ مذاکرات ’بے معنی‘ ہو گئے، واشنگٹن اسرائیلی جارحیت کی حمایت کر رہا ہے۔
’مہر نیوز‘ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمٰعیل باقائی نے ایک بیان میں کہا کہ دوسری جانب (امریکا) نے ایسا رویہ اختیار کیا ہے جس سے بات چیت بے معنی ہو گئی ہے، آپ ایک طرف مذاکرات کا دعویٰ اور دوسری طرف صہیونی حکومت (اسرائیل) کو ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے کی اجازت دیں، یہ ایک ساتھ نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت سفارتی عمل پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو گئی اور یہ حملہ واشنگٹن کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔