غزہ کے بحران پر پاکستانی و ایرانی وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ایرانی وزیر خارجہ سے اپنی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں محمد اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی تک فوری اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی ممکن بنائی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان و ایران کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں انسانی بحران، فلسطینیوں کو فوری انسانی امداد کی فراہمی اور باہمی تعلقات سے متعلق تازہ ترین پیشرفت پر ٹیلی فونک بات چیت کی۔ اس ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں فریقین نے غزہ میں لاکھوں فلسطینی باشندوں کو متاثر کرنے والے سنگین انسانی بحران پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اور سینیٹر "محمد اسحاق ڈار" نے فلسطینی عوام کے ساتھ بے لوث حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے غزہ کی پٹی تک فوری اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے آج صبح نیویارک میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے مثبت نتائج پر امید کا اظہار کیا۔ مزید گفتگو کے دوران سید عباس عراقچی اور سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ، مستقبل قریب میں اعلیٰ ایرانی وفد کے دورہ پاکستان کا پروگرام بھی زیر بحث رہا۔ واضح رہے کہ قبل ازیں محمد اسحاق ڈار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان بہت جلد ایرانی صدر ڈاکٹر "مسعود پزشکیان" کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا دورہ اگلے مہینے اگست کے آغاز میں ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد اسحاق ڈار
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔