data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران(مانیٹرنگ ڈ یسک)ایرانی پارلیمنٹ کے پریذائیڈنگ بورڈ کے ترجمان عباس گودرزی نے کہا ہے کہ جوہری عمل ایران کا مقامی ہے، لہٰذا اسرائیل کے دہشت گردانہ اقدام سے ملک کے جوہری عمل کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عباس گودرزی نے ایرانی جوہری تنصیبات پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غاصب اسرائیل کے گھناؤنے جرائم سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجرم اسرائیلی حکومت علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، لہذا اس سرطانی ٹیومر کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی حکومت کا یہ گھناؤنا اقدام ایرانی قوم کے عزم اور ارادے کو ہر گز کمزور نہیں کرے گا بلکہ اس سے اسلامی ایران کی عظیم قوم کے درمیان اندرونی اتحاد، ہمدردی اور یکجہتی کا باعث بنے گا۔ترجمان نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت کو جاننا چاہیے کہ ایرانی مسلح افواج یقیناً صہیونی حکومت کے مظالم کا بہت جلد منہ توڑ جواب دیں گی۔قبل ازیں، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب نے کہا تھا کہ ایران صہیونی حکومت کی مجرمانہ مہم جوئی کو ختم کرے گا جو اس جعلی حکومت نے ایرانی علاقوں کے خلاف شروع کی تھی۔باقر غالب نے ایرانی قوم نے کہا کہ ایک بار پھر صہیونی مجرم اور دہشت گرد گروہ کا ہاتھ ہمارے پیارے ایران میں کمانڈروں اور جنگجوؤں کے خون سے رنگین ہو گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم