ایران کیخلاف اسرائیلی رژیم کی جارحیت پر منعقدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کیساتھ خطاب میں ایرانی سفیر و مستقل نمائندے نے صیہونی جارحیت پر خاموشی کو اس جرم میں برابر کی شراکتداری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل فوری ایکشن لیتے ہوئے اور اسرائیل کے ان جارحانہ اقدامات کیخلاف عملی اقدامات اٹھائے! اسلام ٹائمز۔ ایران کے خلاف غاصب اسرائیلی رژیم کی جارحیت پر تشکیل پانے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے ساتھ خطاب میں اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر و مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اعلان کیا کہ میں اسرائیلی رژیم کی جارحیت پر اس ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی حمایت کے حوالے سے پاکستان، الجزائر، چین و روسی فیڈریشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اس حوالے سے انجام پانے والے امیر سعید ایروانی کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1- اسرائیل نے متعدد ایرانی شہروں میں نہ صرف عوامی و عسکری علاقوں بلکہ ایرانی جوہری تنصیبات پر بھی منظم فوجی حملے کئے ہیں، جن میں نطنز کا جوہری مرکز بھی شامل ہے جس کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی و سیفگارڈ پروٹوکولز کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے، نیز ان حملوں میں 78 افراد شہید اور 320 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں، خواتین اور بچوں کی ہے۔  

2- یہ حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور، اور جوہری توانائی ایجنسی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔  

3- غاصب اسرائیلی رژیم کی بار بار کی جارحیت کے سامنے اقوام متحدہ و عالمی قانونی اداروں کی خاموشی نے اس بدمعاش رژیم کو مزید شہہ دی ہے کہ جس کے باعث اسے اپنے جارحانہ اقدامات کو مزید تیز کرنے اور تمام سرخ لکیروں کو عبور کر جانے کا حوصلہ ملا ہے لہذا اس خاموشی کا مطلب ان جرائم میں برابر کی شراکتداری ہے۔ 

4 - امریکہ نے قابض اسرائیلی رژیم کو مکمل سیاسی و انٹیلیجنس مدد فراہم کی ہے لہذا امریکہ بھی قابض اسرائیلی رژیم کے ان جرائم میں برابر کا شریک ہے۔  

5- ایران اپنے دفاع کے مسلمہ حق پر تاکید اور اعلان کرتا ہے کہ وہ مناسب وقت و مناسب طریقے سے بھرپور جواب دے گا۔  

6- یہ حملہ صرف ایران پر ہی نہیں بلکہ عالمی امن پر بھی حملہ ہے۔  

7- ایران مطالبہ کرتا ہے کہ سلامتی کونسل اسرائیلی جارحیت کی فی الفور مذمت کرے اور اسے رکوانے کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے۔  

8- اسلامی جمہوریہ ایران خبردار کرتا کہ اگر اسرائیلی رژیم کو اب بھی نہ روکا گیا تو عالمی نظام درہم برہم ہو سکتا ہے جس کی مکمل ذمہ داری غاصب اسرائیلی رژیم اور اس کے اندھے حامیوں کی گردن پر عائد ہو گی۔  
9- نیز یہ کہ یہ قابض اسرائیلی رژیم ہی ہے کہ جس نے ایران پر حملہ کیا ہے اور یہ قابض اسرائیلی رژیم ہی ہے کہ جس نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہذا قابض اسرائیلی رژیم کو اس کے تمام غیر قانونی اقدامات پر فی الفور جوابدہ بنانا ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی رژیم اسرائیلی رژیم کی سلامتی کونسل اقوام متحدہ جارحیت پر کی جارحیت رژیم کو

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان