سلامتی کونسل اسرائیلی جارحیت کو بند کروائے، امیر سعید ایروانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ایران کیخلاف اسرائیلی رژیم کی جارحیت پر منعقدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کیساتھ خطاب میں ایرانی سفیر و مستقل نمائندے نے صیہونی جارحیت پر خاموشی کو اس جرم میں برابر کی شراکتداری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل فوری ایکشن لیتے ہوئے اور اسرائیل کے ان جارحانہ اقدامات کیخلاف عملی اقدامات اٹھائے! اسلام ٹائمز۔ ایران کے خلاف غاصب اسرائیلی رژیم کی جارحیت پر تشکیل پانے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے ساتھ خطاب میں اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر و مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اعلان کیا کہ میں اسرائیلی رژیم کی جارحیت پر اس ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی حمایت کے حوالے سے پاکستان، الجزائر، چین و روسی فیڈریشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اس حوالے سے انجام پانے والے امیر سعید ایروانی کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1- اسرائیل نے متعدد ایرانی شہروں میں نہ صرف عوامی و عسکری علاقوں بلکہ ایرانی جوہری تنصیبات پر بھی منظم فوجی حملے کئے ہیں، جن میں نطنز کا جوہری مرکز بھی شامل ہے جس کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی و سیفگارڈ پروٹوکولز کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے، نیز ان حملوں میں 78 افراد شہید اور 320 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں، خواتین اور بچوں کی ہے۔
2- یہ حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور، اور جوہری توانائی ایجنسی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔
3- غاصب اسرائیلی رژیم کی بار بار کی جارحیت کے سامنے اقوام متحدہ و عالمی قانونی اداروں کی خاموشی نے اس بدمعاش رژیم کو مزید شہہ دی ہے کہ جس کے باعث اسے اپنے جارحانہ اقدامات کو مزید تیز کرنے اور تمام سرخ لکیروں کو عبور کر جانے کا حوصلہ ملا ہے لہذا اس خاموشی کا مطلب ان جرائم میں برابر کی شراکتداری ہے۔
4 - امریکہ نے قابض اسرائیلی رژیم کو مکمل سیاسی و انٹیلیجنس مدد فراہم کی ہے لہذا امریکہ بھی قابض اسرائیلی رژیم کے ان جرائم میں برابر کا شریک ہے۔
5- ایران اپنے دفاع کے مسلمہ حق پر تاکید اور اعلان کرتا ہے کہ وہ مناسب وقت و مناسب طریقے سے بھرپور جواب دے گا۔
6- یہ حملہ صرف ایران پر ہی نہیں بلکہ عالمی امن پر بھی حملہ ہے۔
7- ایران مطالبہ کرتا ہے کہ سلامتی کونسل اسرائیلی جارحیت کی فی الفور مذمت کرے اور اسے رکوانے کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے۔
8- اسلامی جمہوریہ ایران خبردار کرتا کہ اگر اسرائیلی رژیم کو اب بھی نہ روکا گیا تو عالمی نظام درہم برہم ہو سکتا ہے جس کی مکمل ذمہ داری غاصب اسرائیلی رژیم اور اس کے اندھے حامیوں کی گردن پر عائد ہو گی۔
9- نیز یہ کہ یہ قابض اسرائیلی رژیم ہی ہے کہ جس نے ایران پر حملہ کیا ہے اور یہ قابض اسرائیلی رژیم ہی ہے کہ جس نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہذا قابض اسرائیلی رژیم کو اس کے تمام غیر قانونی اقدامات پر فی الفور جوابدہ بنانا ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی رژیم اسرائیلی رژیم کی سلامتی کونسل اقوام متحدہ جارحیت پر کی جارحیت رژیم کو
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔