data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انقرہ:صدر اردوان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، اسرائیل کے ان اقدامات سے عالمی استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو چکے ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی راہ میں سنگین رکاوٹیں کھڑی ہو گئی ہیں۔

ترک صدر کامزید کہنا تھا کہ اسرائیل خطے میں اپنے مذموم عزائم کے لیے ایران پر حملوں کو بطور ہتھکنڈہ استعمال کر رہا ہے تاکہ غزہ میں جاری قتلِ عام اور فلسطینی عوام کی نسل کشی سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کی اس کھلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، فلسطینی عوام کی نسل کشی پر خاموشی نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی سنگین پامالی ہے۔

خیال رہےکہ اسرائیل نے اپنے جارحانہ کارروائیوں میں اضافہ کرتے ہوئے گزشتہ جمعہ کے روز ایران پر حملہ کردیا تھا، جس میں ایران کے اہم سائنسدانوں سمیت 6 افراد شہید ہوئے تھے، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر رات میں حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں اسرائیل میں کئی ہلاکتیں اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران پر

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار