حالت جنگ میں مذاکرات نہیں کریں گے، ایران نے قطر اور عمان کو آگاہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران نے ثالث قطر اور عمان کو آگاہ کردیا ہے کہ حالت جنگ میں اسرائیل سے مذاکرات نہیں کریں گے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی عہدیدار نے ثالث کو بتایا کہ تہران حملے کے دوران مذاکرات نہیں کرے گا۔
ایرانی عہدے دار کے مطابق اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے بعد مذاکرات ہوسکیں گے، عمان اور قطر سے کہا ہے وہ جنگ بندی کے لیے امریکا سے بات کریں۔
اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان نئے حملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس سے وسیع تر جنگ کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل میں جلد معاہدہ کرانے کا اعلان کیا۔
واشنگٹن سے جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہم جلد امن کرائیں گے۔
واضح رہے کہ جمعہ کے روز اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور پھر ایران کی جوابی کارروائی کے بعد خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہوچکی ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔