JERUSALEM:

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی اسرائیل کے حملوں کا نتیجہ ہوسکتی ہے کیونکہ اسرائیل خطرات کے خاتمے کے لیے کچھ بھی کرلے گا۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے سوال کیا گیا کہ ایران میں حکومت تبدیلی اسرائیلی کوششوں کا حصہ ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ نتیجہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایران کی حکومت بہت کمزور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دو بڑے عزائم کے حصول کے لیے جو ضروری ہوا وہ کریں گے، جن میں اسرائیل کے لیے موجود خطرات بشمول جوہری خطری اور بیلسٹک میزائل کا خطرہ شامل ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے خود کو بچانے کے لیے اقدامات کیے لیکن میں سمجھتا ہوں صرف اپنی حفاظت نہیں بلکہ دنیا کو اس حکومت سے محفوظ رکھنا ہے، ہم دنیا کی خطرناک حکومت کے پاس خطرناک ہتھیاروں کی موجودگی کا متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اس سے قبل ایران کے عوام کو مخاطب کرکے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ موجودہ اسلامی قیادت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے بھی واضح کردیا کہ اسرائیل کو اپنی دہشت گردی اور جارحیت کی قیمت چکانی پڑے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے کے لیے نے کہا

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل