ایران میں موساد کا تخریبی منصوبہ ناکام، دو جاسوس رنگے ہاتھوں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایران میں موساد کا تخریبی منصوبہ ناکام، دو جاسوس رنگے ہاتھوں گرفتار WhatsAppFacebookTwitter 0 15 June, 2025 سب نیوز
ایران کے حساس صوبے البرز میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے دو اسرائیلی ایجنٹوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن کا تعلق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے بتایا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ دونوں افراد گرفتاری کے وقت بم تیار کرنے میں مصروف تھے۔ سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ایجنٹوں کو گرفتار کیا بلکہ ممکنہ تخریبی کارروائی کو بھی ناکام بنا دیا۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد سے دھماکہ خیز مواد، ڈیجیٹل آلات اور دیگر حساس اشیاء بھی برآمد کی گئی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش میں ملوث تھے اور ان کا تعلق براہ راست اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک سے ہے۔
سکیورٹی ادارے مزید تفتیش کر رہے ہیں، جب کہ ابتدائی بیانات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
آپریشن وعدہ صادق سوم: اسرائیل دھماکوں سے لرز اٹھا، ایک ہی رات میں ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک
واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی ایرانی سیکیورٹی فورسز نے شہر یزد میں کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل سے روابط کے الزام میں [پانچ افراد کو گرفتار کیاہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ افراد حساس تنصیبات کی تصاویر، ویڈیوز اسرائیلی خفیہ اداروں کو بھیج رہے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرالیکشن کمیشن تقرریوں کا معاملہ، اسپیکر نے کمیٹی بنانے سے انکار کر دیا بھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹرگرکر تباہ، پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاک آئی ایف سی کا ریکوڈک منصوبے کے لیے 400 ملین ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان را اور موساد کا خفیہ تعاون، دفاعی اتحاد خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی اسرائیل کے حق میں ریلی اسرائیلی حملے امریکی مدد کے بغیر ناممکن، پرامن جوہری پروگرام ہمارا حق ہے: ایران انتہائی افسوسناک اور مشکل صبح ہے، ہم مل کر سوگ منائیں گے، اسرائیلی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔