ایران نے اسرائیل پر 100 بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل داغ دیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایران نے اسرائیل پر 100 بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں سے نیا حملہ کیا ہے۔ جن میں حیفہ کے معاشی مراکز بھی نشانہ ہیں۔
حیفہ میں ایرانی میزائل سے عمارت کو نقصان پہنچا، حیفہ میں ڈرون حملے سے ریفائنریز میں آگ لگ گئی۔
شمالی اسرائیل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق اسرائیل پر ہائبرڈ ڈرون میزائل بھی داغے گئے ہیں۔
اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کے حیفہ، کرایوت اور گلیلی مغربی علاقے میں سائرن بج اٹھے۔
اس سے پہلے ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک گھنٹے میں اسرائیل کے دس طیارے بھی مار گرائے ہیں تاہم اسرائیلی حکام نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق خاتم الانبیا ایئر ڈیفنس بیس کے کمانڈر نے کہا کہ ایران کے مختلف مقامات پر ایک گھنٹے کے دوران اسرائیل کے دس فوجی طیارے گرائے گئے ہیں۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ طیاروں کی اقسام کیا تھیں۔ اس سے پہلے ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اسرائیل کے تین ایف تھرٹی فائیو طیارے مار گرائے ہیں اور ایک خاتون پائلٹ کو حراست میں لے لیا ہے تاہم اسرائیل نے اس کی تردید کی تھی۔
اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہےکہ تہران پر دو گھنٹے تک ستر طیاروں نے پروازیں کیں اور چالیس اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ یہ ایران کے اندر اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دی گئی ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایران نے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔