پاکستان نے شہریوں کے لیے ایران کے سفر سے متعلق ہدایات جاری کردیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی کے تناظر میں حکومت پاکستان نے اپنے شہریوں کے لیے ایران کے سفر سے متعلق ٹریول ایڈوائزری جاری کردی ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے پیش نظر پاکستانی شہری ایران کا سفر نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر کو ٹیلیفون، پاکستان کی طرف سے اظہار یکجہتی
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان ایرانی سرزمین پر موجود اپنے شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔ وزارت داخلہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری ایک احتیاطی اقدام ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے شہریوں کو بچایا جاسکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالات کسی بھی وقت مکمل جنگ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران-اسرائیل کشیدگی: پاکستان آنے اور جانے والی متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کیے، جن میں ایرانی سائنسدانوں، عسکری قیادت اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 80 افراد شہید ہوئے جن میں 9 سائنسدان اور کئی اعلیٰ فوجی افسران شامل تھے۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کردی اور دعویٰ کیا کہ اس نے 200 سے زائد میزائل فائر کیے جن کے نتیجے میں اسرائیل میں 9 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اتنا طاقتور کیسے ہوا؟ اسرائیل ایران جنگ میں امریکا کا کردار؟ پاکستان بھی خطرے میں؟
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل ایران پاکستان دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران پاکستان دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔