اسلام آباد:

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد پڑوسی ملک میں پھنسے 450 پاکستانی زائرین کا انخلا مکمل کر لیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر، حکومت پاکستان پاکستانی شہریوں کی فلاح و بہبود اور حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے 450 پاکستانی زائرین کا انخلا گزشتہ روز مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ایران میں مقیم پاکستانی طلباء کے محفوظ انخلا کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 154 طلباء کو نکالا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ عراق میں پاکستانی زائرین، جو فضائی حدود کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے ہیں، ایران میں ہمارا سفارت خانہ ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کی محفوظ رہائش اور ممکنہ انخلا کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ دفتر خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ یونٹ (CMU) 24 گھنٹے فعال ہے۔

رابطہ کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

فون نمبر: 9207887-51 92+

ای میل: [email protected]

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ خطے میں موجود ہمارے سفارت خانے پاکستانی شہریوں اور زائرین کی مدد اور انخلا کے لیے تمام ضروری اقدامات کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستانی زائرین نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری