جنگ نہیں چاہتے، بھارت نے پانی روکا تو کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا: بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
برلن(نیوز ڈیسک) پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ اور سابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ جنگ نہیں چاہتے، پانی روکا گیا تو کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا۔
پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو نے جرمن نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے فیصلے کو واپس لینا پڑے گا، بھارت کی پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پانی روکنا ہمارے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے، پانی ہماری بقا ہے، اپنے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو سکتے، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کا ہاتھ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ ہم نے کبھی نہیں کہا دہشتگردی کی وجہ سے جنگ چھیڑ دیں گے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔