Jasarat News:
2026-06-03@08:21:06 GMT

برق گرتی ہے بجٹ کی بیچارے غریبوں پر

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں کے الیکٹرک سمیت صارفین تک بجلی سپلائی کرنے والے جتنے ادارے ہیں وہ سب عوام کے اوپر آئے دن بجلی گراتے رہتے ہیں لوڈشیڈنگ کے علاوہ بجلی کی فی یونٹ شرح بڑھتی رہتی ہے، بجلی کی اصل قیمت کے علاوہ دسیوں قسم کے ٹیکس اس میں پہلے ہی شامل ہیں اب سننے میں آرہا ہے کہ اس بجٹ میں تیرہ سو ارب روپے کے گردشی قرضے ان سرمایہ داروں اور اشرافیہ کو ادا کیے جائیں گے جن کے گھروں میں فاقے پڑرہے ہیں جبکہ یہ وہ رقم ہے جو یہ ظالم ساہوکار ایک یونٹ بجلی پیدا کیے بغیر حکومت سے وصول کریں گے اور یہ کون لوگ ہیں یہ برسر اقتدار سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ ہی ہیں جن کو حکومت نجی بینکوں سے قرض لے کر ان فاقہ زدہ سرمایہ داروں کو ادا کرے گی اور بینک کی یہ رقم سود سمیت پاکستان کے عوام سے ان کے بجلی کے بلوں میں (3.

23) تین روپے تیئس پیسے فی یونٹ بڑھا کر وصول کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نجی بینک بھی زیادہ تر ان ہی سرمایہ داروں کے ہیں جن کی آئی پی پیز ہیں بس ایک انٹری پاس کرنا ہوگی جس سے بینک سے رقم ان کے آئی پی پی اکائونٹ میں چلی جائے گی پھر بینک یہ رقم حکومت سے سود سمیت وصول کرے گا اور حکومت یہ رقم بجلی کے بل کے ذریعے ہم سے وصول کرے گی اسی کو کہتے ہیں چت بھی میری پٹ بھی میری ٹئیاں میرے باپ کی۔ یہ غریبوں کا بجٹ کہاں سے ہوگیا یہ تو امیروں کو فائدہ پہنچانے والا بجٹ ہے۔
تنخواہ دار طبقہ تو اور ظلم کی چکی میں پس کر رہ گیا دس فی صد اضافہ کیا گیا جبکہ بیس فی صد مہنگائی پہلے ہی بڑھ چکی ہے اور اب سے دو ماہ بعد اگست کے مہینے میں جب یہ اضافی رقم سرکاری ملازمین کے ہاتھ میں آئے گی تو مہنگائی اور بڑھ چکی ہوگی۔ انکم ٹیکس میں جو ریلیف دیا گیا ہے وہ ریلیف کے نام پر دھوکا ہے آج کی دنیا میں سفارتی زبان کچھ اور ہوتی ہے، سیاسی زبان یا بیانیہ کچھ اور ہوتا ہے اور حکومت کے وزیر خزانہ کی معاشی زبان کچھ اور ہوتی ہے۔ بجٹ کے حوالے سے ہم اور بات کریں گے لیکن بجلی کے سلسلے کی ایک بات اور مسلم لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا بجلی کے حوالے سے ایک بیان نظر سے گزرا وہ کہہ رہے تھے 201 یونٹ استعمال کرنے والوں کا بل محض ایک یونٹ کے اضافے سے چار گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے یہ صارفین پر بہت بڑا ظلم ہے۔ چلیے دیر آئد درست آید کے مصداق پندرہ بیس برس سے وقفے وقفے سے اقتدار میں رہنے والی ن لیگ کے اہم رہنما کو اب پتا چلا ہے کہ بجلی کمپنیاں عوام پر یہ ظلم کررہی ہے یہ آپ کے دور سے ہورہا ہے۔ فرض کیجیے کسی کا دوسو یونٹ کا بل ہے تو وہ پروٹیکٹڈ صارف ہے اس کا بل 13 روپے فی یونٹ کے حساب سے 2600 روپے کا ہوگا (جس میں دیگر ٹیکس شامل نہیں ہیں) اسی صارف کا بل دوسرے مہینے 201 یونٹ کا بل آتا ہے تو تو وہ پروٹیکٹڈ سے نان پروٹیکٹڈ میں آجائے گا اس کا بل 40 روپے فی یونٹ کے حساب سے 8040 روپے کا آئے گا۔ جبکہ اس میں دیگر ٹیکس شامل نہیں ہیں پھر یہی ظلم نہیں کہ صرف ایک مہینے زیادہ رقم کا بل آگیا مزید ظلم یہ کہ اب اس کو چھے ماہ تک سزا کے طور پر اسی بڑھی ہوئی شرح سے یعنی 40 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل ادا کرنا ہوگا چاہے وہ کسی مہینے سو یونٹ استعمال کرے یا دوسو سے زیادہ وہ صرف تشویش کا اظہار کرکے رہ گئے اس سلسلے میں اپنا آئندہ کا پروگرام نہیں بتایا۔
بجٹ کے حوالے کچھ چیزیں ہم شروع سے دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ جو برسر اقتدار گروپ یا اتحاد اسمبلی میں بجٹ پیش کرتا ہے تو اس کی اپوزیشن ایوان میں شور شرابا اور ہنگامہ کرتی ہے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دی جاتی ہیں۔ جیسے کہ اس دفعہ تحریک انصاف اپوزیشن میں ہے تو اس نے ایوان میں یہ کام کیا ہے کل جب تحریک انصاف اقتدار میں تھی تو اور اس کے وزیر خزانہ بجٹ پیش کرتے تو یہی فریضہ ن لیگ اور پی پی پی والے انجام دیتے تھے۔ سرکاری ایوانوں سے وابستہ ارکان اسمبلی ٹاک شوز میںایڑی چوٹی کا زور یہ ثابت کرنے میں لگا دیتے کہ اس سے اچھا بجٹ پہلے کبھی آیا ہے نہ آئندہ کبھی آئے گا، اور اپوزیشن سے وابستہ ارکان اس کے بالکل الٹ بات کرتے کہ اس سے زیادہ خراب اور عوام دشمن بجٹ پہلے کبھی نہیں آیا اور آئندہ بھی اگر یہی رہے اس سے خراب ہی بجٹ کے آنے کی امید ہے۔ جب ملک میں پری بجٹ اور پوسٹ بجٹ بحث چلتی ہے تو مجھے پتا نہیں کیوں معروف دانشور اور مزاح نگار مشتاق یوسفی کا وہ جملہ یاد آجاتا ہے کہ ’’جھوٹ تین قسم کے ہوتے ہیں پہلا جھوٹ، دوسرا سفید جھوٹ اور تیسرا سرکاری اعداد شمار‘‘ بجٹ تو اعداد وشمار کے گورکھ دھندوں کا ہی نام ہے۔ اس میں زیادہ تر فی صد میں بات کی جاتی ہے پھر ملین بلین اور ٹریلین کی بات ہوتی جو عام آدمی تو سمجھ ہی نہیں پاتا۔
اس دفعہ مجھے پتا نہیں کیوں ایسا لگا کہ بجٹ کے حوالے سے ہمارے وزیر خزانہ اور دیگر ارکان اسمبلی کے بیانات، تقاریر، پریس کانفرنس اور اخباری مضامین بھارت کے اس گودی میڈیا جیسا ہے کہ بس اب جو جنگ ہوگی وہ پاکستان مٹائو جنگ ہوگی ایک ہی ہلے میں POK بھارت کی گود میں ہوگا اسی طرح ہمارے یہاں قبل از بجٹ ایسی شاندار تصویر کشی کی جارہی تھی جیسے آنے والا بجٹ غربت مٹائو بجٹ ہے اس میں ہم نے سرمایہ داروں کے حلق سے پیسے نکال کر غریبوں کی غربت دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب پاک بھارت جنگ بھارت کی امریکا سے التجا پر رک گئی اور سیز فائر ہوا تو گودی میڈیا کو سکتہ ہوگیا انہیں ایسا لگا کہ جیسے وہ کوئی سہانا خواب دیکھ رہے تھے اور اچانک ان کی آنکھ کھل گئی اب پھٹی پھٹی آنکھوں سے چھتوں کو تک رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح بجٹ آنے کے بعد ایسا لگا کہ حکومت بجٹ کے حوالے سے جو سہانے خواب دیکھ رہی تھی یا عوام کو دکھا رہی تھی آنکھ کھلی تو سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔
بچپن میں مجھے کچھ کچھ یاد ہے بجٹ آنے والا تھا ہمارے بڑے آپس میں بات کرتے ہیں دیکھو بجٹ آنے والا ہے شاید آٹے کی قیمت میں دو یا ایک پیسہ فی سیر کم ہوجائے یہ اس وقت کی بات ہے جب آٹا پونے سات آنے سیر تھا پھر بجٹ کے بعد سوا چھے آنے اور کچھ دن بعد ساڑھ چھے آنے پھر واپس پونے سات آنے فی سیر پر آگیا کہنے کا مطلب یہ کہ پہلے بجٹ میں عوام کچھ چیزیں سستی ہونے کی آس لگائے بیٹھے ہوتے اور اب حال یہ کہ عام آدمی بجٹ آنے سے پہلے خوف کا شکار ہوجاتا کہ کہتا ہے کہ دیکھو مہنگائی کا طوفان آنے والاہے موجودہ بجٹ بھی ایسا ہی کچھ آیا ہے۔ دس سال ہم بھی سرکاری ملازم رہے ہیں ہر سال بجٹ کے موقع پر آپس میں یہی گفتگو ہوتی تھی کہ اس دفعہ تنخواہوں میں 35 فی صد اضافہ ہونے والا ہے لیکن بجٹ آنے پر پتا چلتا کہ صرف دس فی صد اضافہ ہوا دل بجھ کر رہ جاتا۔ ایک اور زاویے سے دیکھیں تو یہ بجٹ موجودہ ن لیگی حکمران اپنے اتحادیوں کو خوش رکھنے اور اپنی حکومت کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے ایک ٹول کے طور استعمال ہوگا۔ اس میں پیپلز پارٹی کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ احسن اقبال رنجیدہ ہیں کہ صحت اور تعلیم کی مدات میں بہت زیادہ کٹوتی کی گئی لیکن ایم این ایز کے ترقیاتی فنڈزکی رقم برقرار رکھی گئی ہے کہ ان ہی سے تو بجٹ منظور کروانا ہے اس کے بعد یہ گٹر کے ڈھکن لگانے اور سڑکوں کی تعمیر کا کام کریں گے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کی خوشدلانہ اطاعت میں ایسا بجٹ جس میں عوام کے لیے دکھوں اور تکالیف کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اس لیے بھی پیش کیا ہے کہ اسے عوام کے ردعمل کا کوئی خوف نہیں ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام اسے ووٹ دیں یا نہ دیں ان کا اقتدار کہیں نہیں جاتا اس لیے کہ ملک میں جو قوتیں اقتدار پر اپنی پسند کے لوگوں کی لاتی ہیں موجودہ وزیر اعظم اپنے آپ کو ان کی گڈ بک میں سمجھتے ہیں، دوسرے لوگ اس بک میں آ نے کی انتھک کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل پارہی۔ ملکی کے سیاسی مستقبل کے لیے یہ بہت خوفناک صورتحال ہوگی کہ لوگ انتخابات سے مایوس ہو جائیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ داروں بجٹ کے حوالے کے حوالے سے ا نے والا بجلی کے رہے ہیں یونٹ کے فی یونٹ ا ہے کہ ہے کہ ا

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان