بھارتی ٹیم کو پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحے سے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے روکا،بھارتی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے پاک بھارت میچ کے دوران کپتان سمیت بھارتی ٹیم نے پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ نہ کر کےسپورٹس مین اسپرٹ کی دھجیاں اُڑائیں۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی کپتان سوریا کمار یادو سے اس حوالے سے پوچھا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ یہ اس لیے کیا گیا تاکہ پاکستان کو واضح پیغام جائے اور وہ پہلگام پر دہشتگرد حملے کو ذہن میں رکھیں تاہم آئیڈیا ان کا نہیں تھا۔
این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر تھے جنہوں نے کھلاڑیوں کو پاکستانی کرکٹرز سے ہاتھ ملانے سے منع کیا تھا۔
این ڈی ٹی وی نے ٹیلی کام ایشیا سپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق، گمبھیر نے مبینہ طور پر بھارتی کھلاڑیوں کو پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ مصافحہ نہ کرنے کا مشورہ دیا اور ان سے یہ بھی کہا کہ وہ حریفوں کے ساتھ کوئی زبانی جملہ بازی نہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔