انٹر میڈیٹ امتحانات؛ جعلی امیدوار رنگے ہاتھوں پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
سٹی42: انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو اسلامیات اختیاری کے امتحان میں جعلسازی کا انکشاف، قربان ہائی سکول والٹن میں جعلی امیدوار رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر کینٹ فاطمہ ارشد اور کنٹرولر امتحانات زاہد میاں نے چھاپہ مار کر کارروائی کی۔جعلی امیدوار محمد شہریار، وزیر حسین کی جگہ امتحان دے رہا تھاجسے فوری طور پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پ
ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے اور وہ کرینگے؛ ڈونلڈ ٹرمپ
ولیس نے ملزم کیخلاف تھانہ فیکٹری ایریا میں مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔
کنٹرولر امتحانات زاہد میاں کے مطابق جعلی امیدوار محمد شہریار، پنجاب یونیورسٹی سے فریش گریجوایٹ ہے اور وہ 80 ہزار روپے کے عوض امتحان میں بیٹھا تھا۔
زاہد میاں کا کہنا ہے کہ اب تک 30 جعلی امیدواروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ بورڈ حکام نے واضح کیا ہے کہ امتحانات میں کسی بھی قسم کی جعلسازی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کیخلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ ، 50 بیلسٹک میزائل داغ دیئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 جعلی امیدوار
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی