City 42:
2026-06-03@08:43:27 GMT

انٹر میڈیٹ امتحانات؛ جعلی امیدوار رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

سٹی42:  انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو اسلامیات اختیاری کے امتحان میں جعلسازی کا انکشاف، قربان ہائی سکول والٹن میں جعلی امیدوار رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر کینٹ فاطمہ ارشد اور کنٹرولر امتحانات زاہد میاں نے چھاپہ مار کر کارروائی کی۔جعلی امیدوار محمد شہریار، وزیر حسین کی جگہ امتحان دے رہا تھاجسے فوری طور پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پ

ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے اور وہ کرینگے؛ ڈونلڈ ٹرمپ

ولیس نے ملزم کیخلاف تھانہ فیکٹری ایریا میں مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔

کنٹرولر امتحانات زاہد میاں کے مطابق جعلی امیدوار محمد شہریار، پنجاب یونیورسٹی سے فریش گریجوایٹ ہے اور وہ 80 ہزار روپے کے عوض امتحان میں بیٹھا تھا۔

زاہد میاں کا کہنا ہے کہ اب تک 30 جعلی امیدواروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ بورڈ حکام نے واضح کیا ہے کہ امتحانات میں کسی بھی قسم کی جعلسازی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کیخلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ ، 50 بیلسٹک میزائل داغ دیئے

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 جعلی امیدوار

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: میاں بیوی پر بہیمانہ تشدد کرنے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گرفتار
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت