Islam Times:
2026-07-24@08:13:52 GMT

وعدہ صادق 3 کے چند پیغام

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

وعدہ صادق 3 کے چند پیغام

اسلام ٹائمز: ایران کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے مرکزی علاقوں پر تابڑ توڑ حملوں نے خطے کو ایک نئی صورتحال میں داخل کر دیا ہے جس سے واپسی ممکن نہیں ہے۔ ایران نے وعدہ صادق 3 آپریشن کے آغاز سے غاصب صیہونی رژیم اور اس کے حامیوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ جہنم کے دروازے کھل چکے ہیں اور اب نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس مرحلے کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ "آج کے بعد اسرائیل کے مقابلے میں کوئی سرخ لکیر وجود نہیں رکھتی۔" اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم گذشتہ کئی عشروں سے امریکہ کی حمایت اور مدد سے ایران کے اندر فتنہ انگیزی کرتی آئی ہے اور جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے مجرمانہ اقدامات کا ارتکاب کرتی رہی ہے۔ لیکن اس بار صیہونی رژیم نے واضح طور پر ایران کی خودمختاری اور قومی سالمیت کو نشانہ بنایا جس کے ردعمل میں ایران نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
ایسے وقت جب پوری دنیا کی توجہ غزہ میں جاری تباہ کن جنگ پر مرکوز تھی خطے کا منظرنامہ اچانک بدلا اور غاصب صیہونی رژیم کی جارحیت کے بعد ایران اور صیہونی رژیم میں فوجی ٹکراو شروع ہو گیا۔ ایران نے صیہونی رژیم کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے وعدہ صادق 3 آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس آپریشن کا پہلا مرحلہ جمعہ 13 جون کی رات شروع ہوا جس میں ایران نے گائیڈڈ میزائلوں کے ذریعے صیہونی مرکز تل ابیب اور دیگر حساس اور اسٹریٹجک صیہونی مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس کے بعد ایران کی جانب سے اب تک اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کے 8 مرحلے انجام پا چکے ہیں۔ وعدہ صادق 3 آپریشن کا سب سے پہلا اور واضح پیغام یہ ہے کہ ایران کے اسٹریٹجک صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اب اسرائیل کے شیطنت آمیز اقدامات کے انتقام کا وقت آن پہنچا ہے۔
 
ایران کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے مرکزی علاقوں پر تابڑ توڑ حملوں نے خطے کو ایک نئی صورتحال میں داخل کر دیا ہے جس سے واپسی ممکن نہیں ہے۔ ایران نے وعدہ صادق 3 آپریشن کے آغاز سے غاصب صیہونی رژیم اور اس کے حامیوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ جہنم کے دروازے کھل چکے ہیں اور اب نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس مرحلے کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ "آج کے بعد اسرائیل کے مقابلے میں کوئی سرخ لکیر وجود نہیں رکھتی۔" اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم گذشتہ کئی عشروں سے امریکہ کی حمایت اور مدد سے ایران کے اندر فتنہ انگیزی کرتی آئی ہے اور جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے مجرمانہ اقدامات کا ارتکاب کرتی رہی ہے۔ لیکن اس بار صیہونی رژیم نے واضح طور پر ایران کی خودمختاری اور قومی سالمیت کو نشانہ بنایا جس کے ردعمل میں ایران نے اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔
 
ایران کی جانب سے وعدہ صادق 3 آپریشن محض ایک انتقامی کاروائی نہیں ہے بلکہ ایران کی حکمت عملی میں تبدیلی کی واضح علامت ہے۔ ایران دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ پوزیشن میں آ چکا ہے۔ ایران نے صیہونی رژیم کو براہ راست میزائل حملوں کا نشانہ بنا کر واضح کر دیا ہے کہ اس کی قومی سلامتی کو خطرے کا شکار کرنے کی قیمت بہت بھاری ہے اور اسرائیل کے لیے اس کے مہلک اور تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ وعدہ صادق 3 آپریشن کے چند اہم پیغام درج ذیل ہیں:
1)۔ ایران ہر جارحیت کا جواب دینے اور ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ لہذا صیہونی رژیم کے گستاخانہ اقدامات کا فوری جواب دیا گیا اور اس کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
2)۔ ایران نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کی جانب سے اسے اپنے ناجائز مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کر دینے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔
 
3)۔ ایران نے خطے میں اپنے تمام اتحادیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اسٹریٹجک صبر کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور اب ایران صیہونی رژیم کے خلاف ٹکراو کی اعلانیہ قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری طرف امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم اس خام خیالی کا شکار تھے کہ وہ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کے ذریعے اسے اپنے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ایران خطے میں ایک بڑا محاذ ہے جو مغربی تسلط اور توسیع پسندانہ عزائم اور پالیسیوں میں بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے "نیو مڈل ایسٹ" نامی منصوبے میں اہم رکاوٹ ایران ہی ہے۔ لہذا امریکی اور صیہونی حکام نے خطے میں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے فوجی طاقت کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور ایران نے اس کے سامنے جھکنے کی بجائے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
 
صیہونی حکمران اور ماہرین بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ وہ ایران کو جھکانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ صیہونی پارلیمنٹ، کینسٹ کے رکن اورن ہازان نے صیہونی چینل 15 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "کیا آپ توقع رکھتے ہیں کہ ایران جیسی سپر پاور گھٹنے ٹیک دے گی؟ ایسا ممکن نہیں ہے۔ ایرانیوں نے گذشتہ چالیس برس کے دوران اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور وہ ہر گز نہیں جھکیں گے۔ ہم نے حتی غزہ میں بھی اس حقیقت کا مشاہدہ کیا ہے کہ ڈیڑھ سال جنگ کے بعد بھی حماس نے ہتھیار نہیں پھینکے اور سفید جھنڈا نہیں لہرایا۔" وہ حالات جو صیہونی حکمرانوں نے خود پیدا کیے ہیں، انہوں نے ہی اس رژیم کو بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ صیہونی رژیم اپنی ناجائز پیدائش کے بعد پہلی بار خود کو میزائلوں کے گھیرے میں محسوس کر رہی ہے۔
 
خطے کے موجودہ حالات سے متعلق پہلا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران اب مذاکرات کی میز پر واپس نہیں لوٹے گا بلکہ اس کے برعکس عین ممکن ہے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر جنگ کا دائرہ مزید بڑھا دے اور حتی آبنائے ہرمز بھی بند کر دے۔ یہ اقدام تیل کی عالمی منڈی میں ایک شدید بحران جنم دینے کے لیے کافی ہے اور فوجی شعبے سے ہٹ کر دیگر شعبے بھی متزلزل ہو جائیں گے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران وسیع پیمانے پر جنگ نہیں چاہتا لیکن چونکہ غاصب صیہونی رژیم کے شیطنت آمیز اقدامات پر عالمی برادری نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے لہذا اس کے خلاف ڈیٹرنس برقرار رکھنے کے لیے فوجی اقدامات ضروری سمجھتا ہے۔ اگر امریکہ صیہونی رژیم کو موجودہ دلدل سے نجات دلانا چاہتا ہے تو اسے اس پر جارحانہ اقدامات روکنے کے لیے فوری دباو ڈالنا چاہیے ورنہ خطہ ایسے تناو میں داخل ہو جائے گا جس سے نکلنا مشکل ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غاصب صیہونی رژیم ایران کی جانب سے نشانہ بنایا اسرائیل کے دیا ہے کہ کر دیا ہے ایران نے ایران کے کو نشانہ کہ ایران یہ ہے کہ نہیں ہے کے خلاف اور اس کے لیے اور اب ہے اور کے بعد

پڑھیں:

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف

تصویر سوشل میڈیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔ 

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔  

شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 

اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ 

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔  

وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ 

اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔ 

بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف