سپاہ پاسداران انقلاب کا صیہونی رجیم کے انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایرو اسپیس فورس کے مجاہدین نے آپریشن صادق وعدہ 3 کے تیسرے مرحلے کے طور پر غاصب حکومت کے انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل کارروائیوں کی ایک نئی لہر شروع کی۔ اس مجرمانہ حکومت کے حامیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس جعلی حکومت کے اہم اہداف کے خلاف موثر اور ٹارگٹڈ کارروائیاں اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ آپریشن صادق وعدہ 3 کے تیسرے مرحلے کے بعد شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کا متن حسب ذیل ہے:
إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِینَ مُنْتَقِمُونَ
ایرانی قوم کے لیے ظالم صیہونی حکومت کی فوج نے آج بھی اسلامی ایران کے خلاف اپنے حملوں اور مظالم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ دشمن نے ایک بار پھر رہائشی علاقوں میں ہمارےعزیز و اقارب کو نشانہ بنا کر اور امام زمانہ علیہ السلام کے تین نامعلوم سپاہیوں اور انٹیلی جنس مجاہدین کے کمانڈروں، شہداء محمد کاظمی، حسن محقق اور محسن باقری کو قتل اور شہید کر کے ایک بار پھر اپنی گھناؤنی اور دہشت گردانہ شناخت ظاہر کر دی۔
اپنے کچل کے رکھ دینے والے ردعمل کو جاری رکھتے ہوئے، خاص طور پر دہشت گرد صیہونی حکومت کے آج کے جرائم کا بدلہ لینے کے لیے، ایرو اسپیس فورس کے مجاہدین نے آپریشن صادق وعدہ 3 کے تیسرے مرحلے کے طور پر غاصب حکومت کے انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل کارروائیوں کی ایک نئی لہر شروع کی۔ اس مجرمانہ حکومت کے حامیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس جعلی حکومت کے اہم اہداف کے خلاف موثر اور ٹارگٹڈ کارروائیاں اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔
وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ
اور فتح اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔
کوڈ خبر :955445
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انٹیلی جنس حکومت کے کو نشانہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔