Daily Ausaf:
2026-06-03@05:57:34 GMT

امکانی طویل جنگ اور مسئلہ فلسطین کا حل

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

کسی بھی جنگ کو اپنی مرضی سے شروع تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے اپنی خواہش کے مطابق ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جنگ دو ملکوں اور فریقوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک فریق جنگ کی شروعات کرتا ہے اور دوسرا فریق جارحیت یا بدلہ لینے کے لئے جوابی وار کرتا ہے۔ اگر دوسرا ملک تگڑا جواب دے دے تو ہزیمت سے بچنے کے لئے جنگ میں پہل کرنے والا ملک اس پر دوبارہ حملہ کرتا ہے۔ جنگ کسی بھی فریق، پارٹی یا ملک کو سہنی پڑے تو وہ اپنی بقا اور سلامتی کے لئے جارحیت کا جوابی حملہ ہر قیمت پر کرتا ہے، اور حملوں کا یہ عمل دو ملکوں کے درمیان بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اگر یہ جنگ دو مذہبی اور نظریاتی دشمن ملکوں کے درمیان ہو تو، دونوں ممالک کے درمیان یہ جنگ اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ جارح یا دفاع کرنے والے ملک کو فتح یا شکست نہیں ہو جاتی ہے۔
لہٰذا یہ مصدقہ جنگی حقیقت ہے کہ اگر دو ملکوں کے درمیان ایک بار جنگ شروع ہو جائے تو وہ کبھی بھی برابری کی سطح پر ختم نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ دو ملکوں کی جنگ میں جیت ہوتی ہے اور یا پھر ہار ہوتی ہے۔
ایران اسرائیل کی حالیہ جنگ اسرائیل نے ایران پر حملے میں پہل کر کے شروع کی، اب اگر اسرائیل یا ایران چاہیں بھی تو 13 جون کو ایران پر اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی یہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے بغیر ختم نہیں ہو سکتی ہے۔ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی نما تحریری بیان جاری کر کے جنگ بندی کا اشارہ دیا کہ، ’’ایران کو بار بار ڈیل کرنے کا موقع دیا، ایران جلد معاہدہ کرے، اِس سے پہلے کہ ایرانی سلطنت کہلائے جانے والے علاقے کا کچھ باقی نہ رہے،‘‘ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کے سٹرٹیجک پارٹنرز بھی رخ بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک روز سعودی عرب نے قابل تحسین اقدام یہ کیا کہ جس کے تحت حکومت نے ایرانی حجاج کو حالات کے بہتر ہونے تک سعودیہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے کر انہیں سرکاری مہمانوں کا درجہ دیا۔ اس سے اگلے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ آج پوری اسلامی دنیا ایران کی سپورٹ میں متحد ہے۔ اگرچہ امریکی صدر نے اسرائیل کے حملے سے پہلے مشرق وسطی کا کامیاب دورہ کیا اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر وغیرہ سے فوجی اور سرمایہ کاری کے تاریخی معاہدے کیے۔ لیکن اسرائیلی جارحیت اور ایران کی جوابی کاروائی کے بعد کیا ہوا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی و سینٹ کی قرار دادوں اور وزیر دفاع کے پالیسی خطاب نے امریکی توقعات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا!
اسرائیل کے پہلے حملے میں ایران کی فوجی تنصیبات، جرنیلوں، سائنس دانوں اور ایران کے درجنوں معصوم شہریوں کی شہادتوں سے ایران کا جتنا نقصان ہوا اور پھر جس طرح ایران نے اسرائیل پر میزائیلوں اور ڈرونز کے ذریعے شدت سے جوابی حملہ کیا، اور پھر دوسرا حملہ بھی کر ڈالا جس سے تل ابیب اور حیفہ لرز اٹھے، اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ ماضی کے برعکس ایران اسرائیل کے درمیان حقیقی دشمنی کی یہ جنگ، جیسا کہ ماضی میں کہا جاتا تھا، کم از کم ’’نورا کشتی‘‘ نہیں ہے جسے ایران، اسرائیل یا امریکہ چاہیں بھی تو وہ کسی فیصلہ کن موڑ پر پہنچے بغیر ختم نہیں کر سکتے ہیں۔
ایک رائے یہ ہے کہ ایران کے پاس پندرہ سو سے دو ہزار میزائلوں کا محدو ذخیرہ ہے اور جب وہ ختم ہو گا تو جنگ فطری طور پر ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی جنگی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو ’’ایں خیال است و محال است‘‘ کے مصداق، جنگ بندی آسانی سے نہیں ہو گی۔ ایران کو جہاں اسلحہ کی رسد اس کے اتحادی پہنچائیں گے، وہاں ایران وقت آنے پر’’آبنائے ہرمز‘‘ کا راستہ بند کرے گا جس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں دگنی ہو جائیں گی اور اسرائیل کے اتحادیوں سمیت عالمی معیشت کو بھی اتنا بڑا جھٹکا لگے گا کہ صرف اسی ایک جھٹکے کے اثرات سے نکلتے دنیا کو کم و بیش دو سال سے زیادہ کا عرصہ لگے گا۔ اس دوران ایران اسرائیل کے خلاف ’’گوریلا وار‘‘ شروع کر سکے گا۔ اگر امریکہ سمیت اسرائیل کے جنگی اتحادی جنگ میں کود پڑے یا انہوں نے آیت اللہ کی حکومت بظاہر ختم بھی کر لی (جیسا کہ وہ چاہتے ہیں) تو اس کا دائرہ تہران تک محدود ہو گا اور وہ بھی افغانستان کے کرزئی کی حکومت جیسی مظلوم حکومت ہو گی اور آیت اللہ کی گوریلہ وار جس کا نشانہ نرم مغربی اور اسرائیلی ٹارگٹس ہوا کریں گے، اس سے مڈل ایسٹ میں بھی وہ شورش برپا ہوگی جس سے عرب بادشاہتوں کے پائوں اکھڑ سکتے ہیں۔ ( جاری ہے )

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل کے کے درمیان دو ملکوں ختم نہیں نہیں ہو کرتا ہے یہ جنگ

پڑھیں:

اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔

جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔

دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام