Daily Ausaf:
2026-07-24@09:29:10 GMT

امکانی طویل جنگ اور مسئلہ فلسطین کا حل

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

کسی بھی جنگ کو اپنی مرضی سے شروع تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے اپنی خواہش کے مطابق ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جنگ دو ملکوں اور فریقوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک فریق جنگ کی شروعات کرتا ہے اور دوسرا فریق جارحیت یا بدلہ لینے کے لئے جوابی وار کرتا ہے۔ اگر دوسرا ملک تگڑا جواب دے دے تو ہزیمت سے بچنے کے لئے جنگ میں پہل کرنے والا ملک اس پر دوبارہ حملہ کرتا ہے۔ جنگ کسی بھی فریق، پارٹی یا ملک کو سہنی پڑے تو وہ اپنی بقا اور سلامتی کے لئے جارحیت کا جوابی حملہ ہر قیمت پر کرتا ہے، اور حملوں کا یہ عمل دو ملکوں کے درمیان بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اگر یہ جنگ دو مذہبی اور نظریاتی دشمن ملکوں کے درمیان ہو تو، دونوں ممالک کے درمیان یہ جنگ اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ جارح یا دفاع کرنے والے ملک کو فتح یا شکست نہیں ہو جاتی ہے۔
لہٰذا یہ مصدقہ جنگی حقیقت ہے کہ اگر دو ملکوں کے درمیان ایک بار جنگ شروع ہو جائے تو وہ کبھی بھی برابری کی سطح پر ختم نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ دو ملکوں کی جنگ میں جیت ہوتی ہے اور یا پھر ہار ہوتی ہے۔
ایران اسرائیل کی حالیہ جنگ اسرائیل نے ایران پر حملے میں پہل کر کے شروع کی، اب اگر اسرائیل یا ایران چاہیں بھی تو 13 جون کو ایران پر اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی یہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے بغیر ختم نہیں ہو سکتی ہے۔ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی نما تحریری بیان جاری کر کے جنگ بندی کا اشارہ دیا کہ، ’’ایران کو بار بار ڈیل کرنے کا موقع دیا، ایران جلد معاہدہ کرے، اِس سے پہلے کہ ایرانی سلطنت کہلائے جانے والے علاقے کا کچھ باقی نہ رہے،‘‘ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کے سٹرٹیجک پارٹنرز بھی رخ بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک روز سعودی عرب نے قابل تحسین اقدام یہ کیا کہ جس کے تحت حکومت نے ایرانی حجاج کو حالات کے بہتر ہونے تک سعودیہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے کر انہیں سرکاری مہمانوں کا درجہ دیا۔ اس سے اگلے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ آج پوری اسلامی دنیا ایران کی سپورٹ میں متحد ہے۔ اگرچہ امریکی صدر نے اسرائیل کے حملے سے پہلے مشرق وسطی کا کامیاب دورہ کیا اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر وغیرہ سے فوجی اور سرمایہ کاری کے تاریخی معاہدے کیے۔ لیکن اسرائیلی جارحیت اور ایران کی جوابی کاروائی کے بعد کیا ہوا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی و سینٹ کی قرار دادوں اور وزیر دفاع کے پالیسی خطاب نے امریکی توقعات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا!
اسرائیل کے پہلے حملے میں ایران کی فوجی تنصیبات، جرنیلوں، سائنس دانوں اور ایران کے درجنوں معصوم شہریوں کی شہادتوں سے ایران کا جتنا نقصان ہوا اور پھر جس طرح ایران نے اسرائیل پر میزائیلوں اور ڈرونز کے ذریعے شدت سے جوابی حملہ کیا، اور پھر دوسرا حملہ بھی کر ڈالا جس سے تل ابیب اور حیفہ لرز اٹھے، اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ ماضی کے برعکس ایران اسرائیل کے درمیان حقیقی دشمنی کی یہ جنگ، جیسا کہ ماضی میں کہا جاتا تھا، کم از کم ’’نورا کشتی‘‘ نہیں ہے جسے ایران، اسرائیل یا امریکہ چاہیں بھی تو وہ کسی فیصلہ کن موڑ پر پہنچے بغیر ختم نہیں کر سکتے ہیں۔
ایک رائے یہ ہے کہ ایران کے پاس پندرہ سو سے دو ہزار میزائلوں کا محدو ذخیرہ ہے اور جب وہ ختم ہو گا تو جنگ فطری طور پر ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی جنگی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو ’’ایں خیال است و محال است‘‘ کے مصداق، جنگ بندی آسانی سے نہیں ہو گی۔ ایران کو جہاں اسلحہ کی رسد اس کے اتحادی پہنچائیں گے، وہاں ایران وقت آنے پر’’آبنائے ہرمز‘‘ کا راستہ بند کرے گا جس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں دگنی ہو جائیں گی اور اسرائیل کے اتحادیوں سمیت عالمی معیشت کو بھی اتنا بڑا جھٹکا لگے گا کہ صرف اسی ایک جھٹکے کے اثرات سے نکلتے دنیا کو کم و بیش دو سال سے زیادہ کا عرصہ لگے گا۔ اس دوران ایران اسرائیل کے خلاف ’’گوریلا وار‘‘ شروع کر سکے گا۔ اگر امریکہ سمیت اسرائیل کے جنگی اتحادی جنگ میں کود پڑے یا انہوں نے آیت اللہ کی حکومت بظاہر ختم بھی کر لی (جیسا کہ وہ چاہتے ہیں) تو اس کا دائرہ تہران تک محدود ہو گا اور وہ بھی افغانستان کے کرزئی کی حکومت جیسی مظلوم حکومت ہو گی اور آیت اللہ کی گوریلہ وار جس کا نشانہ نرم مغربی اور اسرائیلی ٹارگٹس ہوا کریں گے، اس سے مڈل ایسٹ میں بھی وہ شورش برپا ہوگی جس سے عرب بادشاہتوں کے پائوں اکھڑ سکتے ہیں۔ ( جاری ہے )

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل کے کے درمیان دو ملکوں ختم نہیں نہیں ہو کرتا ہے یہ جنگ

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم