ایران نے کسی جنگ میں پہل کی نہ اسرائیل پر حملہ کیا — ایراوانی کا اقوام متحدہ کو خط
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی نے ایک اہم خط کے ذریعے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ ایران نے نہ تو اسرائیل پر حملہ کیا ہے اور نہ ہی کسی جنگ میں پہل کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر اقدامات کر رہا ہے۔
ایراوانی کے خط کے اہم نکات ایران ایک امن دوست ملک ہے اور ہم نے کبھی کسی پر حملہ کرنے میں پہل نہیں کی۔ ہم پر حملے کیے گئے، اور ہم نے صرف دفاعی اقدامات کیے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے تہران، نطنز، اور دیگر حساس مقامات پر جارحیت نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو جارحیت سے روکے اور عالمی قوانین کی پاسداری کروائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امیر سعید ایراوانی ایران اسرائیل جنگ ایرانی مندوب اقوام متحدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امیر سعید ایراوانی ایران اسرائیل جنگ ایرانی مندوب اقوام متحدہ اقوام متحدہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔