Express News:
2026-07-24@07:23:08 GMT

ایران پر اسرائیلی حملہ اور اقوام متحدہ!!!

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا ہے کہ جس میں ایران کی اعلی فوجی قیادت اور ایٹمی سائنسدان شہید ہوگئے ہیں۔ کیا یہ حملے دنیا کے لئے غیر متوقع تھے؟ انصاف سے کہا جائے تو بالکل بھی نہیں۔ کیا دنیا اور اقوام متحدہ کو ان حملوں کے بارے میں پہلے سے علم تھا؟ اس بات کا وثوق سے جواب دینا تو مشکل ہے لیکن دنیا کے اہم ممالک کو یقیناً اس کا علم ہوگا اور کچھ ممالک کو تو خود اسرائیل نے اعتماد میں لیکر ایران پر حملہ کیا ہوگا اور دنیا کے خودساختہ مائی باپ کہ جس میں مائی بہت کم اور باپ بہت زیادہ ہے۔ اس کو تو یقیناً اس کا علم ہوگا۔

دنیا کو کیا ہوگیا ہے؟ اور کیوں صرف ایک ملک کو دنیا کے امن و سلامتی سے کھلواڑ کرنے کی کھلی "اجازت" دی گئی ہے؟ جی ہاں اجازت اور یہ اجازت واضح اور صریح بھی ہے اور خفی بھی۔ امریکہ کی طرف سے پہلی اور اقوام متحدہ کی طرف سے دوسری۔ اب آپ دنیا کی سادگی دیکھئے کہ وہ اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ وہ یہ جنگ رکوائے۔ یہ جنگ تو ہوہی رہی ہے پہلی دنیا کے طاقتور ممالک اور اقوام متحدہ کے آشیرباد سے تو وہ بھلا یہ جنگ کیوں رکوائے گے اور ویسے بھی آج تک اقوام متحدہ نے کس مظلوم کے خلاف جنگ رکوائی یے؟ اگر اقوام متحدہ نے وقت پر اور درست طریقے سے اسرائیل کو نکیل ڈالی ہوتی تو آج اس کی یہ جرات ہوتی کہ وہ یوں کسی بھی ملک پر چڑھائی کردے۔ دنیا پر یہ جنگ اقوام متحدہ اور اسلحہ بنانے والے ممالک مل کر مسلط کررہے ہیں اور یہ دنیا کا جغرافیہ بدلنے اور نیا ورلڈ آرڈر مسلط کرنے کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔

اگر آپ اس جنگ کا حقیقی تجزیہ پڑھنا چاہتے ہیں تو میں یہ پیش کرنے کی جسارت کرنا چاہوں گا کہ یہ جنگ پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کا تسلسل ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کی جنگ میں ہندوستان کو بلاواسطہ اور مغرب کو بالواسطہ شکست ہوئی تھی اور اس جنگ کے نتیجے میں چین کے تعاون سے ایک نیا بلاک تشکیل پایا تھا۔ موجودہ جنگ کے ذریعے ایران کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی بلاواسطہ سزا اور چین بالواسطہ جنگ میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔ یہ درحقیقت چین اور مغربی دنیا کی جنگ ہے جو مسلمان ممالک کے کندھوں پر لڑی جارہی ہے کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی ممالک نے یہ طے کرلیا تھا کہ اب جنگ یورپ میں نہیں ہوگی اور جنگ کا اگلا میدان مشرق وسطی ہوگا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس سے زیادہ لکھنے کا میں متحمل بھی نہیں ہوں اس لئے آپ تھوڑے لکھے کو بہت جانئے۔

مسلمان ممالک کے حال پر حسب روایت ایک کہانی اور اختتام۔ ایک جنگل میں شیر اور چار بیل رہا کرتے تھے۔ چاروں بیل بہت موٹے تازے اور صحت مند تھے اور ان کو دیکھ کر شیر کی رال ٹپکنے لگتی تھی۔ ایک دن شیر نے جوش میں آکر بیلوں پر حملہ کردیا۔ چاروں بیلوں نے مل کر شیر کی وہ ٹھکائی کی کہ شیر کو نانی یاد آگئی حالانکہ شیر تو اپنی نانی کو جانتا بھی نہیں تھا۔ شیر جب بیٹھ کر اپنے زخم سہلا رہا تھا تو لومڑی، گیڈر اور لگڑبھگے نے شیر سے کہا کہ اگر تمھیں بیل کا شکار کرنا ہے تو تمھیں ہماری مدد درکار ہوگی (آپ لومڑی، گیڈر اور لگڑبھگے کا کردار تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کیونکہ انھیں اپنی اپنی سلطنت بچانی تھی)۔ یوں پھر لومڑی، گیڈر اور لگڑبھگے نے چاروں بیلوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا اور شیر نے ایک ایک کرکے چاروں بیلوں کو کھانا شروع کردیا۔ پاکستان ان چاروں بیلوں میں سے یقیناً ایک بیل ہے۔ 

پاکستان کب تک خود کو بچا پاتا ہے یہ اللہ جانتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چاروں بیلوں کا شکار کرنے سے پہلے شیر اندرونی بیماریوں کا شکار ہوکر بیلوں کے شکار سے تائب ہوجائے۔ ایسا ہونا ناممکن تو نہیں لیکن اس وقت یہ بات خارج از امکان نظر آرہی ہے۔ ایک بات طے ہے کہ دنیا اس وقت ایک بہت خطرناک راستے پر چل نکلی ہے اور ہر ملک صرف اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن وہ یہ نہیں سمجھ رہا کہ اگر دنیا ہی نہ رہی تو ایک یا چند ممالک کیا کرے گے۔ 

مغرب کسی بھی طور پر چین کو جنگ میں شامل کرنا چاہتا ہے اور اس کو شکست دے کر اسلحے کے بازار میں اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا کاروبار چلتا رہے۔ دنیا کے مستقبل کا دارومدار اب چین کے ردعمل پر ہے۔ آنے والے دن مشکل اور خوفناک بھی ہوسکتے ہیں۔ آئیے مل کر دعا کریں اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔ یارب العالمین۔ 

والسلام 

 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور اقوام متحدہ چاروں بیلوں چاروں بیل کرنے کی دنیا کے یہ جنگ اور اس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران