تھنک ٹیک، تھنک پاکستان: سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے لندن میں تشہیری مہم
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
فوٹو — جیو نیوز
پاکستانی ٹیک انڈسٹری کی جانب سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کےلیے لندن میں خصوصی تشہیری مہم کا آغاز ہوگیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی حمایت سے پاکستانی ٹیک انڈسٹری کی جانب سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کےلیے لندن میں ٹیکسیوں پر ’تھنک ٹیک، تھنک پاکستان‘ کے لیبل لگائے گئے ہیں۔
لندن میں اس تشہیری مہم کا آغاز اولمپیا لندن میں منعقد کیے گئے لندن ٹیک ویک 2025ء میں پاکستان کی شرکت کے بعد کیا گیا۔
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے اشتراک سے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کی قیادت میں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تقریباً 14 نمائندوں نے لندن ٹیک ویک 2025ء میں شرکت کی۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ابوبکر نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی 14 سب سے آگے نظر آنے والی ٹیک کمپنیوں کو دنیا کے سب سے بڑے اختراعی اجتماعات میں سے ایک میں لے کر آیا۔
اُنہوں نے بتایا کہ لندن ٹیک ویک میں سرمایہ کاروں، انٹرپرائز خریداروں، پالیسی رہنماؤں اور ملک کے تیزی سے پھیلتے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے کے خواہشمند ڈائسپورا اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے پاکستان میں بہت زیادہ دلچسپی لی گئی۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ تشہیری مہم ’تھنک ٹیک، تھنک پاکستان‘ ہر طرف گونج اُٹھی ہے۔
پی ایس ای بی کے چیف مارکیٹنگ آفیسر عامر انزور نے کہا کہ’تھنک ٹیک، تھنک پاکستان‘ سلوگن پورے لندن اور سوشل میڈیا پر مقبول ہو گیا ہے اور اسے روزانہ ہزاروں لوگ دیکھ رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تقریباً 4 بلین ڈالر کی ٹیک ایکسپورٹ مارکیٹ ہے جو 23 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔
عامر انزور نے مزید بتایا کہ ہم اگلے پانچ سالوں میں اسے 15 بلین ڈالرز تک لے جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، پاکستان کے باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور انگریزی بولنے والے نوجوان عالمی سطح پر جڑے ہوئے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ کے ویژن اور بھرپور جذبے کےلیے ان کے شکر گزار ہیں۔
اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ میں لندن ٹیک ویک 2025ء میں پاکستان کی شرکت پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اُنہوں نے کہا کہ اس اقدام نے پاکستان کو ایک ترقی پسند ملک کی حیثیت دی ہے جو ٹیکنالوجی، اختراعات اور اپنے نوجوانوں کی دنیا کے ساتھ منسلک ہونے کی صلاحیت کو بروئے کار لا رہا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس طرح کے ایک اہم پلیٹ فارم پر ہماری موجودگی ہمارے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فوٹ پرنٹ اور عالمی عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔ میں وزارت آئی ٹی، پی ایس ای بی، ٹی ڈی اے پی اور ہمارے ٹیک انٹرپرینیورز کو پاکستان کو لندن ٹیک ویک میں ویژن اور مقصد کے ساتھ پیش کرنے پر سراہتا ہوں۔
آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ہم نے لندن ٹیک ویک میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ حکومت، صنعت اور ہمارے ڈائسپورا میں اجتماعی خواہش اور صف بندی کا نتیجہ ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اب کسی کے دروازے پر دستک نہیں دے رہا ہے بلکہ اب ہم ایک قابلِ قدر ٹیک پارٹنر کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں، ہماری قابلیت، لاگت کی کارکردگی اور جدت طرازی کو نظر انداز کرنا اب ناممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تھنک پاکستان سرمایہ کاروں تشہیری مہم شہباز شریف نے کہا کہ ا نہوں نے تھنک ٹیک آئی ٹی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :