Daily Ausaf:
2026-07-24@06:20:31 GMT

امکانی طویل جنگ اور مسئلہ فلسطین کا حل

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کے اتحادی بھی ایران کی اس طرح کی شکست کے حامی نہیں ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں ایران کو ’’ایٹمی پاور‘‘ بنتے نہیں دیکھنا چاہتی ہیں مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتی ہیں کہ ایران کا وجود ختم ہو جائے یا خطے میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ قائم ہو۔
اس مقصد کو حاصل کرنے کے دوران مغرب، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف خطے میں نفرت اور شدت پھیلے گی،مغرب کو یہاں اس سے کئی گنا زیادہ پیسہ لگانا پڑے گا جتنا اس نے افغانستان میں لگایا تھا لیکن یہاں سے مغرب ویسی آسانی سے نکل بھی نہیں پائے گا جیسے وہ افغانستان سے نکلا تھا، کیونکہ روس اور چین نکلنے ہی نہیں دیں گے۔ گزشتہ روز چین نے بھی جنگ میں ایران کی مدد کرنے کا واضح اعلان کر دیا۔ خدانخواستہ کوئی انہونی ہوتی ہے تو مغربی ٹارگٹس میں وہ تباہی پھیلے گی کہ دنیا وہ دہشت گردی بھول جائے گی جو اس نے گزشتہ پچیس سال کے دوران بھگتی ہے۔ ایسا نہ بھی ہوا تو ہم اگلی کئی دہائیوں تک مغرب اور مڈل ایسٹ میں ایسی بدامنی ہو گی کہ اس سارے ماحول میں سب سے زیادہ نقصان اسرائیلیوں کا ہو گا، کوئی اسرائیلی دنیا میں کسی ایک بھی جگہ محفوظ نہیں ہوگا۔
یہ جنگ میرے خیال میں ہفتہ یا دو ہفتہ کے بعد بند نہیں ہو گی بلکہ یہ جنگ عالمی جنگ میں نہ بھی بدلی تو یہ جنگ جتنی دیر بھی رہی اس سے فلسطین اسرائیل کے تنازعہ کے حل کا موقع ضرور پیدا ہو گا کیونکہ اس جنگ کی بنیادی وجہ میں ایران کا حماس اور حزب اللہ کی فوجی اور اخلاقی حمایت کرنا سرفہرست ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب نے ایران اسرائیل جنگ کے بعد’’یو ٹرن‘‘ لیا ہے، اس سے مشرق وسطی میں کم از کم’’سٹرٹیجک پارٹنرشپ‘‘ کی نئی صف بندی کا بھی آغاز ہو گا جس میں چین اور روس بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسرائیل نے اپنے قیام سے اب تک ایک غاصب ریاست کا کردار ادا کیا ہے جس پر گرتے میزائل اور راکٹ دنیا بھر میں مسلمانوں کی نا صرف اجتماعی تسکین بن رہے ہیں بلکہ وہ تصور بھی بدل رہے ہیں جو ان ممالک کو ناقابل شکست اور ناقابل تسخیر پیش کرتا تھا.

یہی طاقت کے زوال کی ابتدا ہوتی ہے۔ پہاڑ جتنا بھی بلند ہو ایک پگڈنڈی بن جائے تو اسے پار کرنے کا راستہ کھل جاتا ہے. ایران اسرائیل کے مقابلے میں کمزور سہی مگر غاضب ریاست پر گرتے ان راکٹوں کا نقصان اعداد میں نہیں اثرات میں نظر آتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران کی لیڈرشپ مسلم عوام کو اس لئے پسند ہیں کہ یہ غیرت مند ہیں، اپنی قوم کے وفادار اور ہمدرد ہیں، دلیر اور بہادر ہیں، سامراج کے آلہ کار، ایجنٹ اور ٹائوٹ نہیں ہیں، آزادی پسند ہیں اور خود مختار ہیں، مظلوم کے حمایتی اور ظالم کے دشمن ہیں۔ جبکہ باقی شہادتیں، تکالیف، مشکلات، کمزوریاں اور پابندیاں خود دار اقوام کی حیات میں آتی رہتی ہیں۔ ایرانی قوم کے عقائد سے مسلم دنیا کا کوئی لینا دینا نہیں، مسلمان سامراج دشمنی کے مداح ہیں اور ہمیشہ اسے سراہتے ہیں۔ اہم بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران کی نیوکلیئر صلاحیت کا خاتمہ تھا، باوجود تمام تر کامیابیوں کے اسرائیل اب تک یہ ہدف حاصل نہیں کر سکا ہے۔
ابتدائی طور پر گو یہ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے مگر اس وقت پورا مڈل ایسٹ نشانے پر ہے۔ صرف ایران ڈی سٹیبلائز نہیں ہو گا بلکہ اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کی جنگ کا آغاز تو اپنی مرضی و منشا سے کیا گیا ہے لیکن اس کے نتائج پر ان کا کنٹرول نہیں وہ اللہ کی مرضی پر منحصر ہوں گے۔
ایران کو طویل جنگ لڑنے کا تجربہ ہے جس نے عراق سے 8سالہ تک جنگ میں اپنے اعصاب پر مکمل قابو رکھا تھا اور وہ جنگ بھی امریکی ایما پر عراق نے ایران پر حملے میں پہل کر کے مسلط کی تھی، جیسا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے میں پہل کی ہے۔ جنگ عظیم دوم میں بھی جاپان نے امریکہ کی پرل ہاربور پر حملے کی پہل کی تھی جس کے بعد ناگا ساقی اور ہیروشیما پر امریکہ نے ایٹم بم گرائے تھے۔ امریکہ نے شائد جنگی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ہے کہ وہ ایران کو دھمکانے کے بعد آج اسرائیل جیسے جارح ملک کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکہ اور مغرب اگر دنیا میں امن چاہتے ہیں تو یہ موقع ہے کہ وہ مشرق وسطی میں مستقل اور پائیدار امن قائم کرنے کے لئے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیئے اسرائیل کی جنگ میں مدد کرنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر لے آئیں۔ چونکہ مشرق وسطی دنیا بھر میں امن کی بحالی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی کرانے کے بعد مسئلہ فلسطین کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، ورنہ یہ جنگ وقتی طور پر بند بھی ہو جائے تو جہاں لانگ ٹرم امن قائم نہیں ہو گا وہاں خطے میں دوبارہ کھلی جنگ اور گوریلا وار پیچیدگی کے امکان میں مزید اضافہ گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل کے ایران کی نہیں ہو یہ جنگ کے بعد

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم