Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:52:59 GMT

تاریخی دوستی روشن مستقبل کی  ضامن  

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

تاریخی دوستی روشن مستقبل کی  ضامن  

تحریر: اعتصام الحق

 

یہ کہانی اُن راستوں کی ہے جو صدیوں سے ریشم، علم، ثقافت اور دوستی کامان رکھتے چلے آئے ہیں۔ یہ کہانی ہے چین اور وسطی ایشیا کی، دو عظیم خطوں کی، جنہوں نے وقت کے ہر امتحان میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما، اور آج ایک نئے مستقبل کی طرف گامزن ہیں۔

دو ہزار سال قبل، چین کے ہان خاندان کے شہنشاہ وو دی نے مغرب کی طرف اپنے ایلچی ‘ژانگ چیان’ کو روانہ کیا۔ ژانگ چیان کا یہ تاریخی سفر نہ صرف سفارتی بنیادوں کا آغاز تھا، بلکہ اس نے ‘سلک روڈ’ کی بنیاد بھی رکھی ۔ ایک ایسا تجارتی راستہ جو چین کے  شہر شیان  سے نکل کر قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، اور آگے روم تک جاتا تھا۔

ان راستوں پر نہ صرف ریشم اور مصالحے سفر کرتے رہے ، بلکہ افکار، عقائد، فنون، اور سائنس و ٹیکنالوجی بھی ساتھ چلے۔ چین کا کاغذ بنانے کا فن سمرقند کے راستے اسلامی دنیا تک پہنچا۔ بخارا اور کاشغر کی درسگاہوں میں اسکالرز  بیٹھے  اور چین کے شہزادے ان سے سیکھنے آتے۔یہ تعلق صرف علم یا تجارت تک محدود نہ تھا۔یہ  رشتہ خون کا نہیں، اقدار اور فہم کا تھا۔

پھر وقت بدلا۔ سامراجی طاقتیں آئیں۔ روس اور برطانیہ کے درمیان ‘گریٹ گیم’ میں وسطی ایشیا تقسیم ہوا، اور چین اندرونی کشمکشوں میں الجھ گیا۔ تعلقات کا دھاگہ کمزور ہوا، لیکن کبھی ٹوٹا نہیں۔

انیس سو نوے کی دہائی میں جب وسطی ایشیا کی ریاستیں سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد آزاد ہوئیں، چین نے ان کا کھلے دل سے استقبال کیا۔ قازقستان، ازبکستان، کرغزستان، ترکمانستان، تاجکستان ۔ ان تمام ممالک کے ساتھ چین نے نہ صرف سفارتی تعلقات قائم کیے بلکہ اپنی  ‘ہمسائیگی  پالیسی’ کے تحت دوستی کی نئی بنیاد رکھی۔چین کے صدرشی جن پھنگ نے 2013 میں قازقستان کی یونیورسٹی میں ایک تاریخی تقریر کی۔ وہیں سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو  کا نظریہ دنیا کے سامنے آیا۔ اس منصوبے کا دل وسطی ایشیا ہی ہے۔

آج چین قازقستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ازبکستان کے ساتھ زرعی، صنعتی اور تعلیمی منصوبے چل رہے ہیں۔ کرغزستان میں چین نے سڑکیں، پل، اور بجلی کے منصوبے مکمل کیے ہیں۔ تاجکستان کے پہاڑوں میں چینی کمپنیاں معدنیات تلاش کر رہی ہیں، اور ترکمانستان سے گیس کی پائپ لائن چین تک پہنچی ہے۔لیکن یہ تعلق صرف معاہدوں تک محدود نہیں۔ چین اور وسطی ایشیا کے عوام ایک دوسرے کی ثقافت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ چین کی جامعات میں وسطی ایشیائی طلبا علم حاصل کرتے ہیں، اور کاشغر کے بازاروں میں آج بھی وسطی ایشیا کے رنگ  نظر آتے ہیں ۔

اس تعلق  کے مستقبل کی راہ بھی روشن نظر آتی ہے۔ گرین انرجی، ڈیجیٹل رابطے، ٹورزم، اور تعلیمی تبادلوں میں دونوں خطے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ 2023 میں شیان میں ہونے والی چین-وسطی ایشیا سربراہی کانفرنس  اور اب 2025 میں آستانہ میں ہونے والی دوسری سربراہی کانفرنس نے یہ واضح کیا کہ یہ دوستی اب صرف گزری ہوئی عظمت کا حوالہ نہیں، بلکہ آنے والے کل کی بنیاد ہے۔ سترہ جون کو دوسری چین وسطی ایشیا  سمٹ میں   چینی صدر شی جن پھنگ نے  کہا کہ طویل مدتی عرصے میں،   فریقین نے  “باہمی احترام، باہمی اعتماد، باہمی فائدے، باہمی تعاون اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے ساتھ مشترکہ جدیدیت کو فروغ دینے” کی ” چائنا سینٹرل ایشیا اسپرٹ ” کی جستجو  کی ہے اور اسے تشکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی احترام اور مساوی سلوک پر قائم ، ممالک سے ان کے حجم  سے قطع نظر  یکساں سلوک   اور  بات چیت اور اتفاق رائے سے فیصلے کرنا ہوں گے اور  قومی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ میں مضبوطی سے ایک دوسرے کا ساتھ  دینا ہوگا  تا کہ ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے باز رہیں۔

یہ کہانی دو قوموں یا چند معاہدوں کی نہیں  یہ اُن تہذیبوں کی ہے جو صدیوں سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، طوفانوں سے گزریں، اور ایک دوسرے کو سمجھتی رہیں۔ چین اور وسطی ایشیا کا رشتہ وقت سے پرانا، اور امید سے نیا ہے۔یہ انہیں  راستوں کا سنگم ہے  جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وسطی ایشیا ایک دوسرے چین کے

پڑھیں:

رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت

مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔

مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان

’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘

رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی