قانون کی حکمرانی ہی ہمارا مقصد ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ہر قدم قانون کی بالادستی کے لیے اٹھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بار اور بینچ کو کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا، دونوں انصاف کے نظام کے لازم و ملزوم حصے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جسٹس یحییٰ آفریدی کے چیف جسٹس بننے کے بعد ادارے میں کیا کچھ بدلا؟
انہوں نے نوجوان وکلا کو نصیحت کی کہ وہ سینئر وکلا سے سیکھنے کی کوشش کریں اور اُن کی جدوجہد کو یاد رکھیں جنہوں نے عدالتی نظام کی بنیادیں مضبوط کیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھ کر ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا فائدہ پوری قوم کو ہوتا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے بار ایسوسی ایشن پر زور دیا کہ وہ ان منصوبوں کا ساتھ دے اور ساتھ ہی نومنتخب کابینہ کو مبارکباد بھی پیش کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیف جسٹس سپریم کورٹ یحییٰ آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس سپریم کورٹ یحیی ا فریدی چیف جسٹس
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔