امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے بحری جنگی اثاثے مضبوط کرتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس نیمٹز‘ کو خطے کی طرف روانہ کر دیا ہے، جو پہلے سے موجود ’یو ایس ایس کارل ونسن‘ کے ساتھ کچھ وقت کے لیے کام کرے گا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ تعیناتی پہلے سے منصوبہ بندی کا حصہ تھی، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث اس میں تیزی لائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس بھارتی بحری بیڑہ کراچی کے قریب پہنچ گیا

موجودہ صورت حال میں دونوں امریکی بحری جہاز کچھ وقت کے لیے بیک وقت مشرق وسطیٰ میں موجود رہیں گے تاکہ علاقے میں امریکی موجودگی برقرار رہے اور کسی ممکنہ جارحیت کو روکا جا سکے۔ اس کے بعد ’یو ایس ایس کارل ونسن‘ واپس روانہ ہو جائے گا۔

امریکی اقدام کو خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے تناظر میں ایک دفاعی تدبیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا امریکی بحری بیڑا ایران مشرق وسطیٰ یو ایس ایس کارل ونسن یو ایس ایس نیمٹز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران یو ایس ایس کارل ونسن یو ایس ایس نیمٹز یو ایس ایس

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان