کراچی رہائش کیلئے دنیا کا چوتھا بدترین شہر قرار
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2025ء) کراچی رہائش کیلئے دنیا کا چوتھا بدترین شہر قرار، مسلسل 18 سال سے سندھ میں حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی کراچی کی حالت بہتر نہ کر سکی۔ تفصیلات کے مطابق ایک عالمی سروے میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو دنیا کا چوتھا بدترین رہائشی شہر قرار دیا گیا ہے۔ دی اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ (ای آئی یو) کی جانب سے جاری کردہ لیویبلیٹی انڈیکس 2025 کے مطابق، کراچی کو 173 شہروں میں سے 170ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جو اس درجہ بندی میں شامل ہوا۔ اس نے صرف تین شہروں ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، طرابلس (لیبیا)، اور دمشق (شام) کو پیچھے چھوڑا۔لیویبلیٹی انڈیکس میں شہروں کی درجہ بندی پانچ شعبوں میں 30 سے زائد اشاریوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جن میں سلامتی، صحت، ثقافت و ماحولیات، تعلیم اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔(جاری ہے)
اس فہرست میں ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن پہلے نمبر پر رہا، جبکہ ویانا، زیورخ، میلبورن، اور جنیوا بالترتیب دوسرے سے پانچویں نمبر پر رہے۔ گزشتہ سال کی فہرست میں سرفہرست رہنے والا ویانا اس بار پیچھے چلا گیا، جس کی وجہ ٹیلر سوئفٹ کے کنسرٹ اور ایک ریلوے اسٹیشن پر ناکام دہشت گرد حملے بنے، جنہوں نے شہر کے اسٹیبلٹی اسکور کو متاثر کیا۔یورپی اور شمالی امریکی شہروں کی درجہ بندی میں بھی کمی آئی ہے۔ لندن 54ویں اور نیویارک 69ویں نمبر پر آئے، جن کی درجہ بندی میں کمی کی وجہ جرائم کی بلند شرح، دہشت گردی کے خطرات اور سڑکوں کی بھیڑ رہی۔ دنیا کے سب سے بڑے شہر ٹوکیو کو 13ویں نمبر پر رکھا گیا۔برطانیہ کے تینوں شامل شہروں لندن، مانچسٹر اور ایڈنبرا کی درجہ بندی میں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجوہات ملک گیر ہنگامے اور بڑھتی ہوئی بے گھری بیان کی گئی ہیں۔کینیڈا کے چاروں شہروں، جن میں کیلگری اور ٹورنٹو شامل ہیں، ان کی صحت کے شعبے میں اسکور کم ہونے کے باعث درجہ بندی بھی متاثر ہوئی۔اس خطے میں رہائش کی مجموعی صورتحال میں سب سے زیادہ بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شہروں میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ترقی کی بدولت۔درجہ بندی میں دمشق آخری نمبر پر ہے، تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بشار الاسد کی دسمبر میں معزولی اور امریکہ کی جانب سے شام پر سے معاشی پابندیاں اٹھائے جانے کے فیصلے سے اگلے سال کی فہرست میں دارالحکومت کی درجہ بندی بہتر ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بیشتر جنوبی ایشیائی شہروں کی کارکردگی ناقص رہی، جس کی بڑی وجوہات ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتا درجہ حرارت ہیں۔ کشمیر بارڈر پر فوجی کشیدگی نے ہندوستان کے پانچ شہروں کے اسٹیبلٹی اسکور کو متاثر کیا۔رپورٹ میں آخر میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مہنگائی میں کمی کا رجحان نظر آ رہا ہے، لیکن جغرافیائی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جو دنیا بھر میں استحکام اور معیارِ زندگی کے لیے خطرے کا باعث بن رہا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی درجہ بندی گیا ہے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔