UrduPoint:
2026-07-24@16:04:48 GMT

کراچی رہائش کیلئے دنیا کا چوتھا بدترین شہر قرار

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

کراچی رہائش کیلئے دنیا کا چوتھا بدترین شہر قرار

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2025ء) کراچی رہائش کیلئے دنیا کا چوتھا بدترین شہر قرار، مسلسل 18 سال سے سندھ میں حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی کراچی کی حالت بہتر نہ کر سکی۔ تفصیلات کے مطابق ایک عالمی سروے میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو دنیا کا چوتھا بدترین رہائشی شہر قرار دیا گیا ہے۔ دی اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ (ای آئی یو) کی جانب سے جاری کردہ لیویبلیٹی انڈیکس 2025 کے مطابق، کراچی کو 173 شہروں میں سے 170ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جو اس درجہ بندی میں شامل ہوا۔ اس نے صرف تین شہروں ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، طرابلس (لیبیا)، اور دمشق (شام) کو پیچھے چھوڑا۔لیویبلیٹی انڈیکس میں شہروں کی درجہ بندی پانچ شعبوں میں 30 سے زائد اشاریوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جن میں سلامتی، صحت، ثقافت و ماحولیات، تعلیم اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

اس فہرست میں ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن پہلے نمبر پر رہا، جبکہ ویانا، زیورخ، میلبورن، اور جنیوا بالترتیب دوسرے سے پانچویں نمبر پر رہے۔ گزشتہ سال کی فہرست میں سرفہرست رہنے والا ویانا اس بار پیچھے چلا گیا، جس کی وجہ ٹیلر سوئفٹ کے کنسرٹ اور ایک ریلوے اسٹیشن پر ناکام دہشت گرد حملے بنے، جنہوں نے شہر کے اسٹیبلٹی اسکور کو متاثر کیا۔

یورپی اور شمالی امریکی شہروں کی درجہ بندی میں بھی کمی آئی ہے۔ لندن 54ویں اور نیویارک 69ویں نمبر پر آئے، جن کی درجہ بندی میں کمی کی وجہ جرائم کی بلند شرح، دہشت گردی کے خطرات اور سڑکوں کی بھیڑ رہی۔ دنیا کے سب سے بڑے شہر ٹوکیو کو 13ویں نمبر پر رکھا گیا۔برطانیہ کے تینوں شامل شہروں لندن، مانچسٹر اور ایڈنبرا کی درجہ بندی میں کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجوہات ملک گیر ہنگامے اور بڑھتی ہوئی بے گھری بیان کی گئی ہیں۔

کینیڈا کے چاروں شہروں، جن میں کیلگری اور ٹورنٹو شامل ہیں، ان کی صحت کے شعبے میں اسکور کم ہونے کے باعث درجہ بندی بھی متاثر ہوئی۔اس خطے میں رہائش کی مجموعی صورتحال میں سب سے زیادہ بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شہروں میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ترقی کی بدولت۔درجہ بندی میں دمشق آخری نمبر پر ہے، تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بشار الاسد کی دسمبر میں معزولی اور امریکہ کی جانب سے شام پر سے معاشی پابندیاں اٹھائے جانے کے فیصلے سے اگلے سال کی فہرست میں دارالحکومت کی درجہ بندی بہتر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بیشتر جنوبی ایشیائی شہروں کی کارکردگی ناقص رہی، جس کی بڑی وجوہات ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتا درجہ حرارت ہیں۔ کشمیر بارڈر پر فوجی کشیدگی نے ہندوستان کے پانچ شہروں کے اسٹیبلٹی اسکور کو متاثر کیا۔رپورٹ میں آخر میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مہنگائی میں کمی کا رجحان نظر آ رہا ہے، لیکن جغرافیائی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جو دنیا بھر میں استحکام اور معیارِ زندگی کے لیے خطرے کا باعث بن رہا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی درجہ بندی گیا ہے

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا