ایران اسرائیل جنگ میں کسی تیسرے ملک کی عسکری مداخلت تباہ کن ہوسکتی ہے، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انتونیوگوتریس نے فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ مزید عسکری مداخلت پورے خطے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انتونیوگوتریس نے فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ مزید عسکری مداخلت پورے خطے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کسی کا نام نہیں لیا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری مراکز کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کی فوجی مدد کرنے کا مبہم اشارہ دے چکے ہیں۔ انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ پر گہری تشویش میں مبتلا ہوں اور ایک بار پھر فوری کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی اپیل کرتا ہوں۔
انھوں نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تنازع کو بین الاقوامی سطح پر وسعت دینے سے باز رہیں۔ انتونیو گوتیرس نے عام شہریوں کی اموات، زخمیوں، اور گھروں و اہم شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کو "افسوسناک اور غیر ضروری" قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کے سکیورٹی معاملات کا واحد حل سفارتکاری ہے۔ انتونیو گوتیرش نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کریں تاکہ دنیا کو جنگ کی ہلاکت خیزی سے بچایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے کیا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔