دباؤ میں کوئی بات نہیں کریں گے، اقوامِ متحدہ میں ایران کا موقف
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے بیان میں کہا ہے کہ ایران دباؤ میں کوئی بات نہیں کرے گا۔
ایرانی مشن نے مزید کہا ہے کہ ایران دباؤ کے زیرِ اثر امن قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی مشن نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران دھمکی کا جواب دھمکی سے اور ہر اقدام کا ویسا ہی جواب دے گا۔
ایران پر واضح کر دیا مذاکرات کیلئے ابھی بھی دیر نہیں ہوئی: جرمن وزیرِ خارجہ
دوسری جانب ایران نے اسرائیل جنگ کے حوالے سے مذاکراتی ٹیم مسقط بھیجنے کی تردید کر دی۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم مسقط بھیجنے کی اطلاعات درست نہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران نے کسی مذاکراتی ٹیم کو مسقط نہیں بھیجا۔
اس سے قبل عرب میڈیا نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران کا مذاکراتی وفد سلطنت عمان پہنچ گیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا ہے کہ ایران
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔