امریکہ کا میدان میں آنا صیہونی حکومت کی کمزوری کی علامت ہے، سید علی خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
حضرت آیتالله خامنهای نے امریکی صدر کے دھمکی آمیز اور سخیف بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ "عقل مند لوگ جو ایران، اس کی قوم اور تاریخ سے واقف ہیں، کبھی بھی اس قوم سے دھمکی کی زبان میں بات نہیں کرتے، کیونکہ ملت ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیتالله خامنهای نے آج دوپہر اپنے دوسرے ٹیلیویژن پیغام میں، صیہونی دشمن کی حالیہ احمقانہ اور خباثت آمیز جارحیت کے مقابلے میں ایرانی قوم کے پُرسکون، بہادر اور بروقت ردِعمل کو سراہتے ہوئے، اسے قوم کی بلوغت اور عقلانیت و معنویت کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ "ایرانی قوم جس طرح مسلط کردہ جنگ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی رہی، اسی طرح مسلط کردہ صلح کے مقابلے میں بھی پوری قوت سے کھڑی ہوگی، اور یہ قوم کسی بھی قسم کے تسلط کو قبول نہیں کرے گی۔" حضرت آیتالله خامنهای نے امریکی صدر کے دھمکی آمیز اور سخیف بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ "عقل مند لوگ جو ایران، اس کی قوم اور تاریخ سے واقف ہیں، کبھی بھی اس قوم سے دھمکی کی زبان میں بات نہیں کرتے، کیونکہ ملت ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ امریکی جان لیں کہ ان کی کسی بھی فوجی مداخلت کے نتائج یقیناً ناقابلِ تلافی نقصان کی صورت میں ہوں گے۔" رہبر انقلاب نے اپنی گفتگو کے آغاز میں روز غدیر کی ریلی اور حالیہ نماز جمعہ کے بعد عوامی اجتماعات کا ذکر کرتے ہوئے عوام کے عظیم جذبے کی تعریف کی، اور خاص طور پر ایک خاتون ٹی وی میزبان کی جانب سے دشمن کے حملے کے وقت "تکبیر" کہنے اور ملت کی طاقت دنیا کے سامنے پیش کرنے کو ایک تاریخی اور باارزش اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کی احمقانہ جارحیت ایسے وقت میں ہوئی جب ایرانی حکام امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات میں مصروف تھے اور ایران کی طرف سے کسی عسکری اقدام کا کوئی اشارہ نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "شروع ہی سے شبہ تھا کہ امریکہ اس حرکت میں صیہونی ریاست کے ساتھ ملوث ہے، اور امریکی حکام کے حالیہ بیانات اس شبہ کو مزید تقویت دیتے ہیں۔" آیتالله خامنهای نے کہا کہ "ایرانی قوم ہر قسم کے تسلط، چاہے جنگی ہو یا سیاسی، کے خلاف کھڑی رہے گی۔ میں اہل فکر، اہل قلم، اور عالمی رائے عامہ پر اثر رکھنے والوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ان حقائق کو دنیا کے سامنے واضح کریں اور دشمن کو اپنی فریب کارانہ تشہیر سے حقیقت کو مسخ کرنے نہ دیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ "صیہونی دشمن نے ایک سنگین غلطی اور جرم کا ارتکاب کیا ہے، جس کی سزا دی جا رہی ہے — اور دی جائے گی۔ ایرانی عوام اور مسلح افواج کی جانب سے دی گئی سزا سخت اور فیصلہ کن ہے، اور اس دشمن کو کمزور کر چکی ہے، امریکہ کا میدان میں آنا صیہونی حکومت کی کمزوری کی علامت ہے۔" امریکی صدر کے حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ "امریکہ کے صدر ایک غیر عاقلانہ بیان میں ایرانی قوم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تسلیم ہو جائے! ہم ان سے کہتے ہیں کہ: اولاً: دھمکیاں اُن کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں جو دھمکی سے ڈرتے ہوں؛ جبکہ ایرانی قوم اس قرآن کی آیت پر یقین رکھتی ہے: 'وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ' (یعنی: کمزور نہ پڑو، غمگین نہ ہو، تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو)۔ لہٰذا دھمکیاں ایرانی قوم پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔" ثانیاً: ایرانی قوم کو کہنا کہ 'تسلیم ہو جاؤ' عقلمندی کی بات نہیں۔ جو لوگ اس قوم اور اس کی تاریخ سے واقف ہیں، وہ کبھی ایسا مطالبہ نہیں کرتے، کیونکہ ملت ایران تسلیم ہونے والی نہیں اور نہ ہی کسی جارحیت کے سامنے جھکے گی۔" آیتالله خامنهای نے مزید فرمایا کہ امریکی اور جو لوگ اس خطے کی سیاست سے واقف ہیں، جانتے ہیں کہ امریکہ کی مداخلت یقیناً اس کے نقصان میں ہو گی اور اسے ایسی ضرب لگے گی جس کا نقصان ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگا۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کی فوجی مداخلت اس میدان میں یقینی طور پر اس کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنے گی۔" انہوں نے ایرانی قوم کو دوبارہ قرآن کی آیت "وَلَا تَهِنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ" کی یاددہانی کراتے ہوئے فرمایا: زندگی کو قوت اور ہمت سے جاری رکھو، خاص طور پر وہ لوگ جو عوامی خدمات اور تبلیغی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، اپنا کام پورے اعتماد اور توکل کے ساتھ انجام دیں کیونکہ 'وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ' (یعنی: نصرت صرف اللہ عزّ و جل سے ہے، جو صاحبِ عزت اور حکمت والا ہے)۔" آخر میں فرمایا کہ "یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ ملت ایران، حق اور سچائی کو ضرور کامیاب کرے گا۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مقابلے میں ہوئے فرمایا سے واقف ہیں ایرانی قوم فرمایا کہ ملت ایران انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل