وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا نائب افغان وزیرِ اعظم کے بیان پر ردِ عمل
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف—فائل فوٹو
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کے نائب وزیرِ اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر کے بیان پر ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ افغانستان کا اپنا اندرونی معاملہ ہے، انہیں جہاں سے سستی راہداری ملے گی وہ وہاں چلے جائیں گے، ہمارے لیے یہ ریلیف ہونا چاہیے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جتنا مال کراچی پورٹ سے افغانستان کے لیے بک ہوتا ہے وہ سارا پاکستان آ جاتا ہے، اگر افغانستان والے ایران، ترکی، ترکمانستان یا بھارت سے مال منگوانا چاہتے ہیں تو ضرور منگوائیں۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد افغانستان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے کرم سے اس میں ہمیں کوئی معاشی نقصان نہیں ہے، پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے، افغانستان ایسا فیصلہ کرتا ہے تو ان کی پاکستان میں آنے جانے کی ٹریفک کم ہو جائے گی۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آمد و رفت کم ہو گی تو تجارت کے روپ میں یا کسی بھی طرح جو دہشت گردی پاکستان میں پھیلتی ہے وہ کم ہو جائے گی، پاکستان کے لیے بارڈر مینجمنٹ بھی بہتر ہو جائے گی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تو بلیسنگ اِن ڈسگائز ہے کہ وہ کوئی اور راستے ڈھونڈ رہے ہیں، افغانستان ایسا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے پاکستان کا فائدہ ہی ہو گا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
خیال رہے کہ افغانستان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر نے پریس کانفرنس کے دوران افغان صنعتکاروں اور تاجروں کو پاکستان پر تجارت کے لیے انحصار کم کرنے کا کہا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دفاع خواجہ ا صف
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔