وانا حملہ ناکام بنادیا، دہشتگردوں نے اے پی ایس پشاور کا پلان بنایا ہوا تھا، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی بہادری اور حکمت عملی کی بدولت وانا حملے میں ملوث تمام دہشت گرد ہلاک ہوئے اور کسی بھی شہری یا فوجی کو جانی نقصان نہیں پہنچا۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس آپریشن کو دہشت گردوں کے منصوبوں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے نہایت اہم تھی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ایک مرتبہ پھر آرمی پبلک اسکول پشاور کی طرح تاریخ دہرانے کا منصوبہ بنا رہے تھے، لیکن اللہ نے کرم کیا اور ہماری بہادر افواج نے اس منصوبے کو ناکام بنادیا۔
انہوں نے عوام سے افواج کی کامیابی کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کو پاکستان سے مکمل طور پر ختم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور افواج اپنے عزم اور حکمت عملی کے ساتھ ملک کی حفاظت میں مصروف ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے پی ایس خواجہ آصف وانا وزیر دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے پی ایس خواجہ ا صف وانا وزیر دفاع وزیر دفاع
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔