مخصوص نشستیں کیس؛ سپریم کورٹ آئینی بینچ کے وکیل سلمان اکرم سے اہم سوالات
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے وکیل سلمان اکرم راجا سے اہم سوالات کیے، جسٹس امین الدین نے سوال اٹھایا کہ باپ پارٹی کو نشستیں مل گئی تھیں تو آپ کہتے ہیں سنی اتحاد کو بھی ملے؟
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے کیس پر سماعت کی۔ کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں عدالت کے سامنے کچھ حقائق رکھوں گا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشنز پر فیصلہ دیا، آٹھ فروری انتخابات میں آئین سے انحراف ہوا۔
جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہمارے سامنے ایک فیصلہ ہے جس پر نظرثانی ہے، آپ اپنے دلائل اسی فیصلے تک رکھیں۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مجھے موقع دیا گیا ہے تو پھر پلیز گزارشات کرنے دیں، آئین سے انحراف 22 دسمبر 2023 سے شروع ہوگیا تھا، 22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن پر فیصلہ دیا جس میں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو بطور پارٹی ہی ختم کر دیا۔
وکیل نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد ہی کچھ لوگوں نے بطور آزاد امیدوار کاغذات جمع کروائے کیونکہ امیدواروں کو خدشہ تھا کاغذات مسترد کر دیے جائیں گے، 13 جنوری کو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا، جن پی ٹی آئی امیدواروں نے ٹکٹ جمع کروائے تھے وہ بھی واپس کر دیے گئے، میں نے بھی ٹکٹ جمع کروایا انہوں نے واپس کر دیا۔
سلمان اکرم راجا نے دلائل میں کہا کہ میرے پاس ریکارڈ موجود ہے مگر کمیشن نے یہاں کہا میں آزاد تھا، 2018 کے بعد باپ پارٹی کو بنا الیکشن لڑے مخصوص نشستیں دی گئیں، آزاد امیدواروں کے شامل ہونے پر ہی باپ پارٹی کو مخصوص نشستیں ملیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ باپ پارٹی نے الیکشن تو باقی ملک سے لڑا تھا۔ جسٹس امین الدین نے سوال اٹھایا کہ باپ پارٹی کو نشستیں مل گئی تھیں تو آپ کہتے ہیں سنی اتحاد کو بھی ملے؟
وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ نہیں میں تو یہاں فیصلے کا دفاع کر رہا ہوں، میں صرف یہ بتا رہا ہوں ہم کن حالات میں اور کیوں سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے، یہاں کہا گیا تھا ہم نے غلطیاں کیں اس لیے سب بتا رہا ہوں، گزشتہ مثال باپ پارٹی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود تھی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ چھ لوگ تو پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے ہی بیٹھے تھے۔ جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ کیا ان چھ لوگوں نے الیکشن کمیشن سے مخصوص نشستیں مانگیں؟
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ان چھ لوگوں کو بھی پی ٹی آئی کا نہیں مانا، الیکشن کمیشن نے ہمیں پارٹی نہیں مانا تو ہائیکورٹ گیا، لاہور ہائیکورٹ کے بعد دو بار سپریم کورٹ آیا لیکن نہیں سنا گیا، پہلی مرتبہ رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا ہمارے کاغذات دھندلے ہیں، کاغذات کلیئر لگائے تو دوسرا اعتراض پھر لگا، دو فروری کو رجسٹرار نے کہا اب الیکشن بہت قریب ہیں نہیں سن سکتے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل دائر کی؟ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ درست ہے ہم نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر نہیں کی۔
وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 8 فروری اور اس سے متعلقہ واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے اکثریتی فیصلہ کیا گیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ایسا کوئی مٹیریل عدالت کے سامنے تھا ہی نہیں، کسی شخص نے عدالت میں آکر نہیں کہا مجھ سے سب کچھ گن پوائنٹ پر کروایا گیا۔
وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 8 ججوں کے اکثریتی فیصلے میں پاکستان کے عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا گیا، تین نومبر کے اقدامات کے خلاف دیے گئے فیصلے کی مثال موجود ہے، عدالت گزشتہ واقعات کی اصلاح کرتی رہی ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے پاس قابل اصلاح سے متعلق کوئی اختیار سماعت نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ 8 ججوں کے اکثریتی فیصلے میں اور دو ججوں کے اختلافی نوٹ میں تھوڑا سا فرق ہے، اکثریتی فیصلے میں لائن نیچے سے لگائی گئی اور دو ججوں نے لائن اوپر سے لگائی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تمام ریکارڈ کا جائزہ لیکر 39 اراکین کی حد تک فیصلہ دیا۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ وہ حقائق ہمارے سامنے تھے ہی نہیں۔
وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیے کہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی ان 8 ججز میں شامل تھے جنھوں نے وسیع نظر سے حقائق کو دیکھا، جسٹس جمال خان مندوخیل اور سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کم وسیع نظر سے حقائق کو دیکھ کر فیصلہ دیا۔ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منیب اختر دستیابی کے باوجود بینچ کا حصہ نہیں ہیں، اگر وہ ہوتے تو اپنے فیصلے کا دفاع کرتے، فارسی کا ایک شعر ہے جس کا اردو ترجمہ ہے کہ دریا میں باندھ کر پھینک دیا گیا اور کہا گیا گیلا نہیں ہونا۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ اسی طرح کا ایک پنجابی میں بھی شعر ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آپ ارشاد فرمائیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالتی کارروائی کو مشاعرے میں تبدیل نہ کریں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کمرہ عدالت سے مکرر مکرر کی آوازیں آنا شروع ہو جائیں۔
جسٹس شاہد بلال کے وکیل سلمان اکرم سے اہم سوالات
سماعت کے اختتام پر جسٹس شاہد بلال حسن نے وکیل سلمان اکرم راجا سے اہم سوالات کیے۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ میرا خیال تھا آپ دلائل کے آغاز میں ہی اس پر بات کریں گے لیکن آپ نے بات نہیں کی، آپ مرکزی کیس میں فریق ہی نہیں تھے، آپ عدالتی کارروائی میں بطور انٹروینر شامل ہوئے، آپ کی کیس میں فریق بننے کی درخواست تو کبھی منظور ہی نہیں ہوئی اور انٹروینر کا اسکوپ بالکل واضح ہوتا ہے، آپ نہ فریق ہیں نہ ہی مدعدلیہ۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ یہ تو لگتا ہے عدالتی بینچ آپ کو مروت میں سن رہا ہے، بینچ نے بھی اس طرف زیادہ بات نہیں کی، میرا خیال تھا آپ پہلے اس پر بات کریں گے، آپ نے تو آتے ساتھ ہی کیس کے میرٹس پر دلائل دینا شروع کر دیے، کیا ہم ازخود نوٹس کی کارروائی میں آپ کو سن رہے ہیں۔
وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں ان سوالات کے جواب دوں گا۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ آپ 8 ججوں کے فیصلے کے بینفیشری ہیں، ایسے کیا جاتا رہا تو آئین و قانون ناکارہ نہیں ہو جائے گا۔
وکیل حامد خان نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف کیس پر حتمی فیصلے تک عدالتی کارروائی روکنے کے لیے نظرثانی دائر کرنی ہے، شارٹ آرڈر نہیں مل رہا۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ شارٹ آرڈر موجود ہے اور آپ کا حق ہے، نظرثانی دائر کریں۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں کل اپنے دلائل مکمل کر لوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس شاہد بلال حسن نے جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس امین الدین نے نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے سے اہم سوالات مخصوص نشستیں باپ پارٹی کو سپریم کورٹ فیصلہ دیا پی ٹی آئی نے دلائل ججوں کے کے خلاف ہی نہیں کورٹ کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف