عالمی بحران کے مقابل یکجہتی کی پکار اور اپیل
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
دنیا آج ایک نئی عالمی جنگ کے باضابطہ آغاز کی گواہ بن چکی ہے جس کا آغاز صیہونی اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران پر جارحانہ اور غیر قانونی حملوں سے کیا، جن میں ایران کے سینئر فوجی کمانڈرز، ممتاز نیوکلیئر سائنسدانوں اور حتی کہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایسے اقدامات صرف عسکری حملے نہیں یہ انسانیت کے خلاف سنگین جرائم ہیں، جو پہلے ہی سے غیر مستحکم خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
جواباً ایران نے نہایت تیزی اور طاقت کے ساتھ ردعمل دیا ایسے اسٹریٹجک حملے کیے کہ اسرائیل کے دفاعی نظام ہل کر رہ گئے اور اس کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں خوف، اضطراب اور افراتفری پھیل گئی۔
ادھر افسوسناک امر یہ ہے کہ مغربی طاقتیں امریکا، برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کی کھلی حمایت کا اعلان کیا، جس سے دنیا دو متضاد گروہوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔لیکن اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک خدائی موقع موجود ہے:اب وقت ہے کہ مسلم دنیا خوف سے نہیں بلکہ ایمان سے اٹھے۔انتشار سے نہیں بلکہ وحدت سے آگے بڑھے۔بے مقصدی سے نہیں بلکہ الٰہی مقصد کے ساتھ حرکت کرے۔
یہ بحران صرف حکومتوں کے لیے نہیں بلکہ ہر مومن کے دل کے لیے ایک بیداری کا الارم ہے۔ہم تاریخ کے محض تماشائی نہیں ہم انبیاء کی میراث کے وارث، مقدس زمینوں کے امین، اور الٰہی ذمہ داری کے حامل ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان، ترکی، ایران، مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مراکش، اردن، اور تمام مسلم ممالک فرقہ واریت، جغرافیائی حدود، اور سیاست سے بلند ہو کر ایک جسم کی مانند متحد ہو جائیں۔
ایک متحدہ اسلامی دفاعی کونسل قائم کریں تاکہ تمام مسلم سرزمینوں اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔عالمی سطح پر ایک اجتماعی آواز ابھاریں جو سچائی، وقار، عدل اور امن پر مبنی ہو۔
عالمی طاقتوں کی جنگوں میں مہرے بننے سے انکار کریں اور عدل، امن، اور حکمت کے سفیر بنیں ایسی سفارتکاری کو فروغ دیں جو امت کی عزت، شفقت، اور قوت کی نمائندہ ہو اور دنیا میں امن کی ضامن بنے ۔
راہِ ہدایت: محبت کے ساتھ ایمان اور اتحادہماری سب سے بڑی طاقت نہ تو تعداد میں ہے اور نہ ہتھیاروں میں بلکہ ایمان، بھائی چارے، اور اخلاقی وضاحت میں ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:یقینا یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو(سورہ الانبیاء 21:92)
یہ آیت اس نازک گھڑی میں ہمارے دلوں میں گونجتی رہے ہمیں یاد دلاتی رہے کہ کوئی بم ایمان سے زیادہ طاقتور نہیں،کوئی اتحاد خلوص پر مبنی وحدت سے زیادہ موثر نہیں،اور کوئی دشمن ہماری اپنی تقسیم سے بڑا نہیں۔
ایک نیا باب مسلم امت کی بیداری ‘ جنگ جو ظلم سے شروع ہوئی اب ایک نئی اسلامی بیداری کو جنم دے:ایسا دور جہاں مسلم دنیا محبت، امن، اور حوصلے سے قیادت کرے۔جہاں بچوں کو تحفظ حاصل ہو، زمینیں محفوظ ہوں، اور قومیں خودمختار ہوں۔جہاں امت ایک روشنی کے مینار کی طرح ایک تاریک ہوتی دنیا میں جگمگائے۔
یہ وہ لمحہ ہو جب ہم لوٹیں نہ کسی سلطنت یا فتح کی طرف بلکہ الٰہی ذمہ داری، بھائی چارے، اور لا اِلہ اِلا اللہ کی سچائی کی طرف۔
آخری دعااے اللہ! ہمارے دلوں کو جوڑ دے،ہمارے رہنمائوں کو ہدایت دے اور ان کی حفاظت فرما،ہماری حفاظت فرما اور ہمیں اپنے عدل و رحمت کا ذریعہ بنا،ہمیں ایمان، حکمت، اتحاد اور محبت عطا فرما،اور انسانیت کے لیے امن قائم کرنے کی توفیق دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔