کردار ، کمائی یا پھرتعلیم؟ حفصہ بٹ کو شوہر میں کون سی خوبی چاہیے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ و ماڈل حفصہ بٹ نے اپنے ہونے والے شوہر میں خوبیوں سے متعلق گفتگو کی ہے۔
حفصہ بٹ نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی سے جڑے کئی اہم موضوعات پر گفتگو کی۔ اس دوران اداکارہ نے نہ صرف تعلیم اور کیرئیر کے انتخاب پر روشنی ڈالی بلکہ انڈسٹری میں کام کے تجربات اور جلدی شادی سے متعلق خیالات کا بھی اظہار کیا۔
اداکارہ و ماڈل نے اپنے ہونے والے شوہر میں پائی جانے والی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ شخص شراب پینے کا عادی نہ ہو۔
حفصہ نے واضح کیا کہ انہوں نے اردگرد کے مشاہدے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شراب نوشی سے نہ صرف فرد بلکہ اس کی پوری فیملی متاثر ہوتی ہے، اس لیے وہ اپنے لیے ایک ذمہ دار اور صاف ستھرا کردار رکھنے والے شریکِ حیات کی خواہش رکھتی ہیں۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا ہونے والا شوہر پڑھا لکھا، اپنے کام پر توجہ دینے والا اور معاشی طور پر مستحکم ہو، کیونکہ وہ زندگی میں سادگی اور استحکام کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی مصنوعی یا غیر حقیقی معیار کی زندگی کے بجائے ایک نارمل اور بھرپور زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔
اس موقع پر حفصہ بٹ نے فلموں میں کام کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ وہ مستقبل میں اس شعبے میں خود کو آزماتے ہوئے مزید تجربات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔