اداکارہ اسما عباس اسکن ٹریٹمنٹ کے بعد مشکل میں پڑگئیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
پاکستان شوبز کی سینئر اداکارہ اسما عباس نے حال ہی میں اپنی جلد سے متعلق ایک ناخوشگوار تجربے کا انکشاف کیا ہے۔
ایک حالیہ وی لاگ میں اداکارہ اسما عباس نے انکشاف کیا کہ ان کے چہرے کی جھائیوں کے علاج کے دوران ایک ردِ عمل کے باعث ان کی جلد شدید متاثر ہوئی ہے۔
اسما عباس کے مطابق ان کے چہرے پر وراثتی فریکلز (جھائیاں) موجود تھیں جنہیں کم کرنے کے لیے انہوں نے ایک ڈاکٹر کے مشورے پر کاؤٹری (Cauterization) کا طریقہ اختیار کیا۔
اس علاج میں جلد کی اوپری سطح کو مخصوص طریقے سے جلایا جاتا ہے تاکہ جلد پر موجود کالے دھبے یا نشانات کو ہلکا کیا جا سکے۔ اداکارہ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر سب کچھ معمول کے مطابق تھا، تاہم اسی رات انہوں نے ایک فیس ماسک استعمال کیا جس سے ان کی جلد پر شدید الرجی ہو گئی۔
https://www.
اداکارہ نے بتایا کہ ماسک کے استعمال کے بعد ان کے چہرے پر سرخی، دھبے اور خارش ہونے لگی اور ان کا چہرہ الرجی کا شکار ہوگیا جس نے ان کے چہرے کو شدید متاثر کردیا۔
اسما عباس نے بتایا کہ وہ اس وقت الرجی دور کرنے کیلئے دوا استعمال کر رہی ہیں اور ڈاکٹرز نے جلد میں بہتری کے لیے وقت دینے کا مشورہ دیا ہے۔
اسما عباس نے مداحوں سے صحتیابی کی دعا کی اپیل کی اور کہا کہ وہ اپنی کہانی اس لیے بیان کر رہی ہیں تاکہ دوسروں کو کسی بھی قسم کے اسکن ٹریٹمنٹ کے بعد احتیاط کی اہمیت کا اندازہ ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ان کے چہرے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔