سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کریں گے، سول سروس ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
سینیٹ میں سول سروس ایکٹ میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کریں گے، سول سروس ایکٹ میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیاگیا۔
وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ سیاستدان اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہیں،ایمنسٹی انٹرنیشنل ، اقوام متحدہ کے اداروں نے کہاکہ دنیا بھر میں یہ ہورہا ہے کہ سرکاری افسران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے ہوتے ہیں،کرپشن سے متعلق چیزیں شفاف ہوں،محکمہ افسران کے گوشوارے ویب سائٹ پر آویزاں کریں۔
بل میں کہا گیا ہے کہ گریڈ17اوربالا کے افسران اپنے، شریک حیات اور زیرکفالت بچوں کے اثاثے ڈکلیئر کریں گے، گریڈ17سے بالاافسران اپنے غیرملکی اور ملکی اثاثے اور واجبات ڈکلیئر کریں گے،تفصیلات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ڈیجیٹل فائل کی جائیں گی ، جو پبلک ہوں گی،تاہم انکشافات عوامی مفادات اور شخص کی پرائیویسی اور سکیورٹی کے درمیان توازن کو مدنظررکھ کر کئے جائیں گے،یہ ترمیم معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے تحت ہے۔
بل کے اغراض و مقاصد
مقصد ہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت اثاثہ جات کا اعلان یقینی بنانا ہے،گریڈ17تا22اعلیٰ عہدیداران کے ملکی اور غیرملکی اثاثے عوام کیلئے قابل رسائی ہوں، اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل فائل کی جائیں گی۔
بل میں کہا گیا ہے کہ ذاتی معلومات، شناختی کارڈ نمبر، پتہ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کا تحفظ کیا جائے،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خطرے پر مبنی تصدیق کیلئے ضروری وسائل اور فریم ورک دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اپنے اثاثے ظاہر افسران اپنے کریں گے
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔