ایران معاملہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی جائیگی، غیرملکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
یورپی وزرائے خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے ممکنہ ملاقات پر امریکا نے بھی اتفاق کیا، رپورٹ
امریکی صدر کے سنسنی خیز بیانات کے بعد ایران معاملہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایران سے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی بات چیت جمعہ کو ہو گی، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شریک ہوں گے۔
خبر ایجنسی کا کہناتھا کہ مذاکرات کیلئے امریکی رضامندی شامل ہے، مذاکرات جینیوا میں ہوں گے جس کے بعد ماہرین کی سطح پر اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کیا جائے گا۔ خبرایجنسی کے مطابق یورپی وزرائے خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے ممکنہ ملاقات پر امریکا نے بھی اتفاق کیا ہے۔اسرائیل ایران جنگ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعے کو ہوگا، اجلاس بلانے کی ایران کی درخواست کو پاکستان ، چین اور روس کی حمایت حاصل ہے۔دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستانی عہدے داروں سے ایران کے معاملے پر بات ہوئی، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے معاملے پر بھی بات ہوئی، ایران پر حملوں سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے جوہری ہتھیار ایران کے ہاتھ آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔